تاریخی پس منظر اور اسباب
جنگِ قادسیہ اور مدائن کے سقوط کے بعد ساسانی سلطنت کا شیرازہ بکھر چکا تھا، لیکن ایرانی امراء اب بھی مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔ خوزستان کا گورنر ‘ہرمزان’ (Hormuzan) جو ساسانی سلطنت کا ایک انتہائی چالاک اور جنگجو جرنیل تھا، مسلمانوں کے ساتھ بار بار صلح کے معاہدے کرتا اور پھر موقع پاتے ہی غداری کر کے عسکری کارروائیاں شروع کر دیتا۔ اس نے اہواز اور اس کے گردونواح میں مسلمانوں کے خلاف ایک بڑا لشکر جمع کرنا شروع کر دیا۔ جب امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ہرمزان کی اس مہم جوئی اور عہد شکنی کی اطلاع ملی، تو آپ نے مدینہ منورہ سے سخت نوٹس لیا۔ آپ نے کوفہ کے گورنر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور بصرہ کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے لشکروں کے ساتھ خوزستان کی طرف پیش قدمی کریں اور ہرمزان کے فتنے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کریں۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
امیر المومنین کے حکم پر بصرہ سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایک بھاری لشکر لے کر نکلے، جس میں جلیل القدر صحابہ جیسے حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ (حضرت انس کے بھائی) اور حضرت مجزأۃ بن ثور رضی اللہ عنہ شامل تھے۔ دوسری طرف کوفہ سے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مجاہدین کا دستہ روانہ ہوا۔ اسلامی لشکر نے خوزستان کے متعدد شہروں کو فتح کرتے ہوئے تستر (Tustar) کا رخ کیا۔ ہرمزان نے جب دیکھا کہ وہ کھلے میدان میں مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اپنے ڈیڑھ لاکھ کے عظیم لشکر کو تستر کے قلعے میں بند کر لیا۔ تستر کا قلعہ اپنی مضبوطی، اونچی دیواروں اور اردگرد گہری نہروں کی وجہ سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ ہرمزان نے قلعے کے اندر وافر مقدار میں غلہ اور جنگی سامان ذخیرہ کر رکھا تھا تاکہ طویل محاصرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ
مسلمانوں نے تستر کا سخت محاصرہ کر لیا جو روایات کے مطابق کئی ماہ (بعض مآخذ کے مطابق ایک سال سے زائد) جاری رہا۔ اس دوران ساسانی قلعے کی دیواروں سے تیروں اور دہکتے ہوئے لوہے کے کانٹوں کی بارش کرتے، جس سے مسلمانوں کا جانی نقصان ہو رہا تھا۔ ایک دن مجاہدین نے حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ سے درخواست کی: ‘اے براء! آپ اللہ کے ہاں اتنے مقبول ہیں کہ اگر آپ کسی بات پر قسم کھا لیں تو اللہ اسے پورا فرماتا ہے، آپ ہمارے لیے فتح اور اپنی شہادت کی دعا فرمائیں!’۔ چنانچہ حضرت براء نے دعا کی: ‘اے اللہ! ہمیں ان پر فتح عطا فرما اور مجھے تیرے نبی ﷺ سے ملوا دے (شہادت عطا فرما)’۔
محاصرہ طول پکڑتا گیا تو ایک ایرانی شہری نے جان کی امان پا کر مسلمانوں کو قلعے کے اندر داخل ہونے کا ایک خفیہ راستہ بتایا۔ یہ راستہ پانی کی ایک زیرِ زمین سرنگ (قنات) تھی جو قلعے کے اندر کھلتی تھی۔ یہ ایک انتہائی خطرناک مشن تھا۔ حضرت مجزأۃ بن ثور اور حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہما کی قیادت میں چالیس جری مجاہدین نے رات کے اندھیرے میں تند و تیز پانی کے بہاؤ کے خلاف تیر کر اس تنگ سرنگ کو عبور کیا۔ وہ قلعے کے اندر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور اچانک نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے قلعے کے محافظوں پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے قلعے کا مرکزی دروازہ کھول دیا، جس سے باہر موجود اسلامی لشکر سیلاب کی طرح اندر داخل ہو گیا۔
قلعے کے اندر ہولناک جنگ شروع ہو گئی۔ ہرمزان نے شدید مزاحمت کی اور اس کے ہاتھوں حضرت براء بن مالک اور حضرت مجزأۃ بن ثور رضی اللہ عنہما جامِ شہادت نوش کر گئے۔ لیکن مجاہدین کے پے در پے حملوں نے ساسانیوں کے پاؤں اکھاڑ دیے۔ ہرمزان نے جب دیکھا کہ شکست یقینی ہے، تو وہ قلعے کے برج میں پناہ گزین ہو گیا اور اس شرط پر ہتھیار ڈالنے پر راضی ہوا کہ اسے خلیفہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا جائے اور وہی اس کا فیصلہ کریں۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
اس جنگ میں مسلمانوں کو عظیم کامیابی حاصل ہوئی لیکن انہیں حضرت براء بن مالک اور حضرت مجزأۃ بن ثور جیسے عظیم اور نڈر مجاہدین کی شہادت کا صدمہ بھی اٹھانا پڑا۔ ہرمزان کو زنجیروں میں جکڑ کر مدینہ منورہ بھیجا گیا۔ جب اسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا، تو وہ مسجدِ نبوی کے صحن میں مٹی پر سو رہے تھے۔ ہرمزان مسلمانوں کے خلیفہ کی یہ سادگی دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ وہاں ہرمزان نے بڑی ہوشیاری سے پانی پینے کے بہانے امان حاصل کی اور پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اخلاق اور اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ خلیفہ نے اسے مدینہ میں رہائش دی اور اس کا وظیفہ مقرر کیا۔ تستر کی فتح کے بعد پورا خوزستان اسلامی قلمرو میں شامل ہو گیا، جس سے فارس (ایران) کے مرکز پر حملہ کرنے کا راستہ صاف ہو گیا اور ساسانیوں کی دفاعی قوت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
معرکہ تستر تاریخِ اسلام کا وہ درخشندہ باب ہے جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مادی وسائل کی کمی اور دشمن کی قلعہ بندیوں کے باوجود، اگر ایمان پختہ ہو اور اللہ کی ذات پر کامل توکل ہو تو غیبی مدد ضرور حاصل ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
‘إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ’ (سورہ آل عمران: ۱۶۰)
ترجمہ: ‘اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا، اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟’
صحابہ کرام کا زیرِ زمین سرنگوں کے خطرناک راستوں سے گزرنا ان کی بے مثال عسکری منصوبہ بندی اور جانثاری کی دلیل ہے، جو رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (تاریخ الامم والملوک، جلد ۴، صفحات ۲۱۵-۲۲۰)
- ابن کثیر الدمشقی (البدایہ والنہایہ، جلد ۷، فتح تستر)
- ابن اثیر الجزری (الکامل فی التاریخ، جلد ۲، ذکر فتح تستر)
- ابن حجر العسقلانی (الاصابہ فی تمییز الصحابہ، تذکرہ براء بن مالک و مجزأۃ بن ثور)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
قرآنی قوانینِ فتح و نصرت (جیسے سورہ آل عمران: ۱۶۰ اور سورہ توبہ: ۲۵-۲۶ کے ایمانی اسباق)
غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
