معارکِ فاصلہ و فتوحاتِ اسلام

معرکہ پریویزا البحری (فتح خیر الدین باربروسا)

« ۴ جمادی الاولیٰ ۹۴۵ ہجری / ۲۸ ستمبر ۱۵۳۸ء »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

سلطنتِ عثمانیہ کے عظیم فرماں روا سلطان سلیمان قانونی کے عہدِ زریں میں بحیرہ روم عثمانی بحریہ کی جولان گاہ بن چکا تھا جہاں امیر البحر خیر الدین باربروسا (باربروس پاشا) کی قیادت میں عثمانی بیڑے نے مسلم مقبوضات کا کامیاب دفاع کیا۔ باربروسا کی فتوحات اور مسلم بحری قوت سے خائف ہو کر پوپ پال سوم نے ایک عظیم عیسائی بحری اتحاد (Holy League) تشکیل دیا جس کا بنیادی مقصد عثمانی بحریہ کا نام و نشان مٹانا اور بحیرہ روم پر عیسائی بالادستی قائم کرنا تھا۔ اس اتحاد میں اسپین، وینس، جینووا، پاپائی ریاستیں اور نائٹس آف مالٹا کے عظیم الشان بحری بیڑے شامل تھے۔ اس بڑے خطرے کا تدارک کرنے کے لیے خیر الدین باربروسا نے پریویزا کے مقام پر پوزیشن سنبھالی۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

عیسائی اتحاد کا کمانڈر انچیف جینووا کا مشہور ایڈمرل اینڈریو ڈوریا تھا، جس کے زیرِ کمان ۳۰۰ سے زائد جدید ترین جنگی جہاز تھے جن میں ہیولک گیلینز (عظیم الجثہ جہاز) اور تقریباً ساٹھ ہزار جنگجو سوار تھے۔ دوسری طرف، عثمانی امیر البحر خیر الدین باربروسا کے پاس صرف ۱۲۲ جہاز اور بیس ہزار جری عثمانی مجاہدین تھے۔ باربروسا نے اپنی بے مثل تزویراتی حکمتِ عملی کے تحت عثمانی بحریہ کو ‘نصف چاند’ (Crescent Formation) کی شکل میں ترتیب دیا۔ مرکز کی کمان خود باربروسا کے ہاتھ میں تھی، دائیں بازو کی کمان صالح رئیس اور بائیں بازو کی کمان جعفر رئیس کے پاس تھی، جب کہ عقب میں ریزرو فورس کے طور پر نامور بحری غازی تورغوت رئیس (ڈریگٹ) کو متعین کیا گیا تھا۔

معرکہ کے تفصیلی احوال اور عثمانی غازیوں کی شجاعت

۲۸ ستمبر ۱۵۳۸ء کو پریویزا کے نیلگوں پانیوں پر یہ تاریخی معرکہ برپا ہوا۔ اینڈریو ڈوریا کو اپنی عددی اور مادی برتری پر پورا ناز تھا، لیکن باربروسا کی جنگی مہارت اور ہوا کے رخ کا بروقت ادراک عثمانیوں کے حق میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔ عثمانی گیلیاں چھوٹی اور انتہائی تیز رفتار تھیں جن پر جدید ترین توپیں نصب تھیں۔ باربروسا نے کمال عسکری مہارت سے عیسائیوں کے بھاری بھرکم جہازوں کو گھیرے میں لے لیا۔ عثمانی توپچیوں کی بے پناہ اور تیز رفتار بمباری نے دشمن کے صف اول کے جہاز غرق کر دیے۔ اسی دوران تورغوت رئیس نے اپنے بیڑے کے ساتھ دشمن کے عقبی حصے پر ہولناک حملہ کیا۔ اینڈریو ڈوریا عثمانیوں کی اس بے جگری اور جنگی چالوں کی تاب نہ لا سکا اور ذلت آمیز شکست کھا کر رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میدانِ جنگ سے فرار ہو گیا۔

شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات

اس عظیم معرکہ میں اللہ تعالیٰ نے عثمانی مجاہدین کو ایک معجزاتی فتح سے نوازا۔ عثمانیوں کا جانی و مالی نقصان حیرت انگیز طور پر نہ ہونے کے برابر رہا؛ کوئی بھی عثمانی جہاز تباہ نہیں ہوا اور محض ۴۰۰ کے قریب مجاہدین زخمی یا جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس کے برعکس، عیسائی اتحاد کے ۱۰ سے زائد جہاز سمندر برد ہوئے، ۳۶ جہاز مسلمانوں نے قبضے میں لے کر مالِ غنیمت بنا لیے، اور ۳,۰۰۰ سے زائد عیسائی جنگجو قیدی بنے۔ معرکہ پریویزا کی اس فیصلہ کن فتح کے نتیجے میں بحیرہ روم پر عثمانیوں کا ایسا غلبہ قائم ہوا کہ اگلی تین صدیوں تک عیسائی طاقتیں عثمانی بحریہ کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔

قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق

اگرچہ یہ معرکہ قرونِ وسطیٰ کے عثمانی دور کا ہے، لیکن یہ اس ابدی قرآنی حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایمان کی طاقت، بہترین تزویراتی منصوبہ بندی اور اتحاد کے ذریعے مٹھی بھر مسلمان اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر پر غالب آ سکتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں ارشاد فرمایا: "كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ” (کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)۔ باربروسا نے اپنی عسکری مہمات میں ہمیشہ اللہ کی نصرت پر بھروسا کیا، اور تاریخ شاہد ہے کہ ایمان کا جذبہ ہی کفر کی مادی برتری پر غالب آتا ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • کاتب چلیپی (تحفۃ الکبار فی اسفار البحار)
  • پروفیسر ڈاکٹر ادریس بوستان (عثمانی بحری تاریخ کے مستند مؤرخ)
  • یلماز عوزتونا (تاریخِ سلطنتِ عثمانیہ)
  • علی محمد الصلابی (دولتِ عثمانیہ: عواملِ عروج و زوال)

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

سورۃ البقرہ، آیت ۲۴۹ (كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ)

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

معرکہ پریویزا البحری (فتح خیر الدین باربروسا)

تاریخ و سن ہجری: ۴ جمادی الاولیٰ ۹۴۵ ہجری / ۲۸ ستمبر ۱۵۳۸ء
میدانِ جنگ: خلیج آمبراکیا، نزد پریویزا (مغربی یونان/بحیرہ ایونی)
لشکرِ اسلام: ۱۲۲ عثمانی جنگی گیلیاں اور تقریباً ۲۰،۰۰۰ مجاہدینِ اسلام
لشکرِ اعداء: مقدس اتحاد (Holy League) کے ۳۰۰ سے زائد بحری جہاز اور تقریباً ۶۰،۰۰۰ عیسائی سپاہی
نتیجہ: سلطنتِ عثمانیہ کی عظیم اور فیصلہ کن فتح، جس نے بحیرہ روم پر عثمانیوں کی بلا شرکتِ غیرے سیادت قائم کر دی۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com