تاریخی پس منظر اور اسباب
جنگِ قادسیہ اور جلولاء کے معرکوں میں ساسانی سلطنت کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان پے در پے شکستوں کے باوجود، آخری ساسانی شہنشاہ یزدگرد سوم نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے ایران کے طول و عرض، جیسے اصفہان، ہمدان، ری، طبرستان اور خراسان کے علاقوں سے ایک عظیم لشکر تیار کرنے کے لیے خفیہ فرامین بھیجے۔ یزدگرد کا مقصد مسلمانوں کو عراق سے بے دخل کر کے اپنی کھوئی ہوئی سلطنتِ فارس کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔
جب خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے گورنر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ذریعے مدینہ منورہ میں یہ اطلاع ملی کہ نہاوند کے مقام پر ڈیڑھ لاکھ کا ساسانی لشکر مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے جمع ہو چکا ہے، تو انہوں نے فوراً مجلسِ شوریٰ کا اجلاس بلایا۔ سیدنا عمر فاروق خود اس جنگ میں شرکت کے لیے روانہ ہونا چاہتے تھے، لیکن سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی صائب رائے پر انہوں نے مدینہ منورہ میں ہی قیام کیا اور کوفہ و بصرہ کے مجاہدین کو متحد کر کے ایک جنگی لشکر روانہ کرنے کا حکم دیا۔ امیر المؤمنین نے اس عظیم معرکہ کے لیے حضرت نعمان بن مقرن المزنی رضی اللہ عنہ کو سپہ سالارِ اعظم نامزد کیا۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کمالِ حکمتِ عملی سے لشکر کی کمان کی ترتیب طے کی۔ انہوں نے فرمان جاری کیا کہ اگر نعمان بن مقرن شہید ہو جائیں تو حذیفہ بن الیمان لشکر کے امیر ہوں گے، اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو نعیم بن مقرن، پھر سوید بن مقرن، اور آخر میں جریر بن عبداللہ البجلی کمان سنبھالیں گے۔
مسلمانوں کا لشکر جس کی تعداد تقریباً 30,000 تھی، نہایت نظم و ضبط کے ساتھ نہاوند کی طرف بڑھا۔ دوسری طرف ساسانیوں کا لشکر ڈیڑھ لاکھ جنگجوؤں پر مشتمل تھا جو جدید ترین ہتھیاروں اور زرہ بکتر سے لیس تھا۔ ساسانی سپہ سالار پیروزان نے نہاوند کے ارد گرد مضبوط قلعہ بندی کر رکھی تھی اور دفاعی خندقیں کھود کر ان کے گرد لوہے کے خاردار گوکھرو (لوہے کی کیلیں) بچھا رکھے تھے تاکہ اسلامی گھڑ سوار آگے نہ بڑھ سکیں۔
معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ
مسلمانوں نے نہاوند پہنچ کر شہر کا محاصرہ کر لیا، جو کئی روز تک جاری رہا۔ ساسانیوں نے قلعہ بند رہ کر دفاعی جنگ لڑنے کو ترجیح دی اور وہ صرف اسی وقت باہر نکلتے جب انہیں فائدہ نظر آتا۔ مسلمانوں کے لیے طویل محاصرہ نقصان دہ ثابت ہو رہا تھا کیونکہ موسم شدید سرد تھا اور سامانِ رسد کی کمی کا اندیشہ تھا۔
اس نازک صورتحال میں حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے جنگی شوریٰ بلائی۔ اس موقع پر نامور عرب جنگجو اور ماہرِ حرب طلیحہ بن خویلد الاسدی نے ایک شاندار عسکری چال کی تجویز پیش کی۔ طے یہ پایا کہ مسلمانوں کا ایک دستہ دشمن پر حملہ کرے اور پھر شکست کا ناٹک کرتے ہوئے پیچھے ہٹنا شروع کر دے، تاکہ ساسانی قلعے اور اپنے محفوظ حصار سے باہر نکلنے پر مجبور ہو جائیں۔
حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اس کام پر مامور کیا گیا۔ انہوں نے ساسانیوں پر حملہ کیا اور پھر بتدریج پیچھے ہٹنے لگے۔ ساسانی یہ سمجھے کہ مسلمان پسپا ہو رہے ہیں۔ وہ جوش میں آ کر اپنے بچھائے ہوئے لوہے کے کانٹوں پر لکڑی کے تختے رکھ کر قلعے سے باہر نکل آئے اور مسلمانوں کے تعاقب میں اپنی محفوظ پوزیشنیں چھوڑ دیں۔ جب ساسانی لشکر کا ایک بڑا حصہ کھلے میدان میں آ گیا، تو حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے زوالِ آفتاب کے بعد (سنتِ نبوی کے مطابق) تکبیرِ اولیٰ کہی، پھر تکبیرِ ثانیہ کہی اور تیسری تکبیر پر پورا اسلامی لشکر سیلابِ بلا خیز کی طرح ساسانیوں پر ٹوٹ پڑا۔
یہ معرکہ عسکری تاریخ کا خوفناک ترین معرکہ تھا۔ تلوار کی تلوار سے مڈبھیڑ کے دوران خون کی ایسی ندیاں بہیں کہ زمین پھسلن زدہ ہو گئی۔ اسی اثنا میں سپہ سالارِ اعظم حضرت نعمان بن مقرن کا گھوڑا خون میں پھسلا اور وہ گر گئے۔ اسی لمحے دشمن کا ایک تیر ان کو لگا جس سے وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کے بھائی نعیم بن مقرن نے فوراً ان کا پرچم سنبھال لیا اور ان کی شہادت کی خبر کو خفیہ رکھا تاکہ لشکر میں انتشار نہ پھیلے۔ انہوں نے نعمان رضی اللہ عنہ کی چادر ان پر ڈال دی اور پرچم حضرت حذیفہ بن الیمان کے حوالے کر دیا۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے نہایت پامردی سے قیادت سنبھالی اور مجاہدین کا حوصلہ بلند رکھا۔ مسلمانوں کے فیصلہ کن حملے نے ساسانیوں کے پاؤں اکھاڑ دیے۔ ساسانی لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ پیچھے ہٹتے ہوئے اپنی ہی کھودی ہوئی خندقوں اور بچھائے ہوئے کانٹوں میں گرنے لگے۔ اندھیری رات میں تقریباً ایک لاکھ ساسانی ہلاک ہوئے، اور ان کا سپہ سالار پیروزان بھی بھاگتے ہوئے ہمدان کی پہاڑیوں میں حضرت قعقاع بن عمرو کے ہاتھوں مارا گیا۔
اس معرکے میں مسلمانوں کو تاریخی فتح حاصل ہوئی اور کثیر مقدار میں مالِ غنیمت ہاتھ آیا جس میں ہمدان کا خزانہ بھی شامل تھا۔ جب مدینہ منورہ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فتح کی خوشخبری سنائی گئی تو وہ خوش ہوئے، لیکن جب انہیں اپنے محبوب جرنیل حضرت نعمان بن مقرن کی شہادت کی خبر ملی، تو وہ زار و قطار رو پڑے۔
عسکری اور سیاسی اعتبار سے یہ معرکہ ‘فتح الفتوح’ (فتوحات کی فتح) کہلایا۔ اس جنگ نے ایران کے پایہ تخت اور ساسانی سلطنت کی ریڑھ کی ہڈی کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیا۔ اس کے بعد ساسانی شہنشاہ یزدگرد سوم ایک مفرور کی حیثیت اختیار کر گیا اور مسلمانوں کے خلاف کوئی منظم لشکر تیار کرنے کے قابل نہ رہا۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
معرکہ نہاوند مسلمانوں کو یہ سبق سکھاتا ہے کہ فتح و نصرت مادی وسائل، عددی اکثریت یا بھاری اسلحہ سے نہیں، بلکہ پختہ ایمان، باہمی اتحاد، امیر کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی نصرت پر کامل یقین سے حاصل ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی اس آیت کی عملی تصویر اس معرکے میں نظر آتی ہے:
‘كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ’ (البقرہ: 249)
یعنی ‘کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل جماعت اللہ کے حکم سے کثیر جماعت پر غالب آ گئی، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔’
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، تاریخ الرسل والملوک (تاریخ الطبری)، تذکرہ واقعاتِ 21 ہجری۔
- عماد الدین ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد ہفتم، نہاوند کا معرکہ اور تفاصیل۔
- ابن الاثیر الجزری، الکامل فی التاریخ، ذکرِ فتحِ نہاوند۔
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، احوالِ صحابہ و فتوحاتِ فاروقی۔
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
جہاد فی سبیل اللہ، صبر اور نصرتِ الٰہی کے عمومی قرآنی احکامات (سورۃ الانفال، آیات 45-46 اور 60)
