معارک و فتوحاتِ خلافت راشدہ

معرکہ جمل (۳۶ ہجری)

« جمادی الثانی ۳۶ ہجری / دسمبر 656ء »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

معرکہ جمل اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی دردناک اور المناک موڑ ہے، جسے فتنۂ اولیٰ کا تسلسل کہا جا سکتا ہے۔ اس معرکہ کا آغاز سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت (ذی الحجہ ۳۵ ہجری) کے بعد پیدا ہونے والے سنگین سیاسی بحران سے ہوا۔ سیدنا عثمان کی شہادت کے بعد مدینہ منورہ میں شدید اضطراب کی حالت میں صحابہ کرام کے اصرار پر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری قبول فرمائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا اولیں تزویراتی ہدف سلطنتِ اسلامیہ میں امن و امان کا قیام، باغیوں کا استیصال اور نظامِ خلافت کو مستحکم کرنا تھا۔ دوسری طرف، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ، اور سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہم اجمعین کا مؤقف یہ تھا کہ خلیفہ وقت سب سے پہلے سیدنا عثمان کے قاتلوں سے قصاص لیں، کیونکہ قاتلینِ عثمان مدینہ کے اقتدار پر اثر انداز ہو رہے تھے اور انہوں نے فوج کے اندر بھی دراندازی کر رکھی تھی۔ خلافتِ علی اور قصاصِ عثمان کے اس اجتہادی اختلاف کو اساس بنا کر سبائی مفسدین (عبداللہ بن سبا کے پیروکاروں) نے فتنہ انگیزی کی آگ کو مزید ہوا دی۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مکہ مکرمہ سے بصرہ کی طرف سفر کا فیصلہ کیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو قصاصِ عثمان کی مہم میں شامل کیا جا سکے۔ ان کے ہمراہ سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے، جو مدینہ سے مکہ پہنچ چکے تھے۔ جب یہ لشکر بصرہ پہنچا، تو وہاں کے عامل اور عوام کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں بصرہ پر سیدہ عائشہ کے حامیوں کا کنٹرول قائم ہو گیا۔ ادھر، امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے شام کے گورنر سیدنا امیر معاویہ کے خطوط اور بصرہ کی نازک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مدینہ سے روانگی کا فیصلہ کیا۔ آپ نے کوفہ سے ابوموسیٰ اشعری کی مخالفت کے باوجود ہزاروں جانبازوں کا لشکر تیار کیا اور بصرہ کے قریب میدانِ خریبہ میں ڈیرے ڈال دیے۔ سیدنا علی کے لشکر کی تعداد بیس ہزار کے قریب تھی، جبکہ دوسری جانب کا لشکر تقریباً تیس ہزار پر مشتمل تھا۔ دونوں لشکروں میں جلیل القدر صحابہ، بدری مجاہدین اور جید تابعین موجود تھے، جو ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہیں چاہتے تھے۔

مذاکرات کی کامیابی اور سبائی سازش

میدانِ جنگ میں دونوں لشکروں کے آمنے سامنے آنے کے بعد، امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ نے انتہائی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیدنا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کو صلح کے لیے سفیر بنا کر ام المؤمنین عائشہ اور سیدنا طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا۔ قعقاع بن عمرو نے فریقین کے مابین غلط فہمیوں کو دور کیا اور یہ طے پایا کہ امن قائم ہوتے ہی قاتلینِ عثمان پر قابو پا کر قصاص لیا جائے گا۔ اس صلح نامے سے دونوں لشکروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور فریقین نے رات پرسکون ماحول میں گزاری۔ لیکن یہ صلح ان سبائی باغیوں اور قاتلینِ عثمان کے لیے موت کا پیغام تھی جو سیدنا علی کے لشکر میں روپوش تھے۔ عبداللہ بن سبا اور اس کے فتنہ پرور گروہ نے رات کے آخری پہر، جب سب سو رہے تھے، دونوں لشکروں پر اچانک شب خون مار دیا۔ انہوں نے سیدنا علی کے لشکر پر دوسری طرف سے اور ام المؤمنین کے لشکر پر سیدنا علی کی طرف سے حملہ کر دیا، جس سے دونوں فریقوں نے یہ سمجھا کہ دوسرے فریق نے دھوکہ دیا ہے اور صلح کا معاہدہ توڑ دیا ہے۔ یوں اندھیرے میں یہ عظیم جنگ بھڑک اٹھی۔

معرکہ کے تفصیلی احوال اور شجاعتِ صحابہ

جنگِ جمل کا آغاز ہوا تو ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ سیدنا زبیر بن العوام کو جب رسول اللہ ﷺ کی ایک پیشگوئی یاد دلائی گئی جو سیدنا علی نے انہیں میدانِ جنگ میں یاد دلائی، تو انہوں نے فوراً لڑائی سے علیحدگی اختیار کر لی اور میدان چھوڑ کر چلے گئے، لیکن راستے میں ابن جرموز نامی ایک بدبخت نے انہیں حالتِ نماز میں شہید کر دیا۔ اسی طرح سیدنا طلحہ بن عبید اللہ کو مروان بن حکم نے تیر مار کر شہید کر دیا، یوں میدانِ جنگ دو عظیم جرنیلوں اور عشرہ مبشرہ کے ارکان سے محروم ہو گیا۔ جنگ کا مرکز ام المؤمنین سیدہ عائشہ کا اونٹ (عسکر) بن گیا۔ ام المؤمنین اونٹ پر ہودج کے اندر تشریف فرما تھیں اور ان کا اونٹ حق اور باطل کی اس جنگ میں اتحاد کا نشان بن چکا تھا۔ ام المؤمنین کی حفاظت کے لیے بنو ضبہ اور بنو ازد کے جانبازوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ جو بھی اونٹ کی نکیل پکڑتا، وہ جامِ شہادت نوش کر لیتا۔ جب جنگ طول پکڑنے لگی اور خونریزی حد سے بڑھ گئی، تو سیدنا علی المرتضیٰ نے بھانپ لیا کہ جب تک یہ اونٹ کھڑا رہے گا، جنگ ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کو حکم دیا کہ اونٹ کے پاؤں کاٹ دیے جائیں۔ چنانچہ اونٹ کو نیچے گرایا گیا اور ہودج کو انتہائی احترام کے ساتھ زمین پر اتارا گیا۔ اونٹ کے گرتے ہی جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔

شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات

جنگ کے خاتمے پر امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میدانِ جنگ میں تشریف لائے۔ آپ نے جب سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور دیگر جلیل القدر صحابہ کی لاشیں دیکھیں تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: "کاش میں اس دن سے بیس سال پہلے وفات پا چکا ہوتا!” آپ نے خود شہدا کے جنازے پڑھائے، خواہ وہ آپ کے لشکر کے ہوں یا دوسرے لشکر کے۔ سیدنا علی نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی خیریت دریافت کی اور انتہائی تعظیم و تکریم کے ساتھ ان کے بھائی محمد بن ابی بکر کی نگرانی میں ایک وفد کے ساتھ انہیں مدینہ منورہ روانہ کیا۔ اس جنگ نے اسلامی تاریخ پر گہرے سیاسی اثرات مرتب کیے۔ خلافت کا مرکز مدینہ منورہ سے ہمیشہ کے لیے کوفہ منتقل ہو گیا اور امت مسلمہ میں سیاسی تفریق کی وہ لکیر کھینچ گئی جس نے مستقبل میں معرکہ صفین اور دیگر فتنوں کو جنم دیا۔

قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق

علمائے اہل سنت کا اجماع ہے کہ معرکہ جمل میں شریک دونوں گروہ مخلص تھے اور ان کا یہ اقدام اجتہادی خطا پر مبنی تھا۔ قرآن مجید کی سورۃ الحجرات کی آیت ۹ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ۔” اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ باہم جنگ کے باوجود دونوں گروہ مومن ہی رہتے ہیں۔ اس معرکے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ فتنوں کے دور میں افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے اتحادِ امت کی کوشش کرنی چاہیے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین ہونے والے اختلافات پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے ان سب کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے، کیونکہ وہ سب مجتہد تھے اور ان کا مقصد دین کی سرفرازی تھا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد ۷)
  • ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (تاريخ الامم والملوک / تاریخ الطبری)
  • ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ)
  • ابن عبدالبر (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب)
  • حافظ ابن حجر عسقلانی (الاصابة في تمييز الصحابة)

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

سورۃ الحجرات، آیت ۹ (وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا) اور سورۃ الاحزاب، آیت ۳۳

غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

معرکہ جمل (۳۶ ہجری)

تاریخ و سن ہجری: جمادی الثانی ۳۶ ہجری / دسمبر 656ء
میدانِ جنگ: میدانِ خریبہ، نزد بصرہ، عراق
لشکرِ اسلام: خلیفہ چہارم سیدنا علی بن ابی طالب کا لشکر (تقریباً 20,000 مجاہدین، بشمول کبار صحابہ و انصار)
لشکرِ اعداء: ام المؤمنین سیدہ عائشہ، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر کا لشکر (تقریباً 30,000 نفوس، جن کا بنیادی مطالبہ قصاصِ عثمان تھا)
نتیجہ: امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی عسکری فتح، سبائی سازشیوں کی پسپائی، اور فریقین کے مابین شدید ندامت و صلح کے بعد ام المؤمنین کی مدینہ منورہ واپسی۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com