معارک و فتوحاتِ خلافت راشدہ

معرکہ جلولاء (۱۶ ہجری)

« ذو القعدہ ۱۶ ہجری / بمطابق دسمبر 637ء »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

معرکہ جلولاء اسلامی تاریخ کی فتوحاتِ عراق کا ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن سنگِ میل ہے۔ جنگِ قادسیہ میں تاریخی شکست اور ساسانی دارالحکومت مدائن (Ctesiphon) پر مسلمانوں کے قبضے کے بعد، ساسانی سلطنت کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔ ساسانی بادشاہ یزدگرد ثالث مدائن سے بھاگ کر حلوان چلا گیا اور وہاں سے اس نے دوبارہ بکھری ہوئی ایرانی افواج کو مجتمع کرنا شروع کیا۔ یزدگرد نے اپنے نامور جرنیل مہران رازی کی سربراہی میں ایک عظیم الشان لشکر تیار کیا اور اسے جلولاء کی طرف بھیجا۔ جلولاء عراق اور ایران کے پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ایک نہایت اہم تزویراتی مقام تھا، جو ایران کے اندرونی صوبوں کے لیے دفاعی دروازے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اگر مسلمان یہاں قابض ہو جاتے تو یزدگرد کا نیا مرکز (حلوان) بھی خطرے میں پڑ جاتا، اسی لیے ساسانیوں نے یہاں زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کی تیاری کی۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ سے صورتحال کی کڑی نگرانی فرمائی۔ جب انہیں ساسانیوں کی اس بڑی جنگی تیاری کی اطلاع ملی، تو انہوں نے فاتحِ مدائن سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر حکم دیا کہ بارہ ہزار مجاہدین پر مشتمل ایک لشکر جلولاء کی طرف روانہ کیا جائے اور اس کی قیادت سیدنا ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ (سعد بن ابی وقاص کے بھتیجے) کو سونپی جائے۔ امیر المومنین نے لشکر کے ہراول دستے (مقدمۃ الجیش) کی کمان عرب کے نامور جنگجو اور بہادر صحابی سیدنا قعقاع بن عمرو التمیمی رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔ دوسری طرف، ایرانیوں نے جلولاء کے گرد ایک زبردست قلعہ بندی کر رکھی تھی۔ انہوں نے اپنے لشکر کے گرد گہری خندقیں کھودیں اور خندق کے باہر لوہے کے تیز کانٹے (حسک) بچھا دیے تاکہ اسلامی رسالہ (کیولری) ان پر اچانک حملہ نہ کر سکے۔

معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ

مسلمانوں نے جلولاء پہنچ کر دشمن کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ انتہائی کٹھن تھا اور تقریباً اسی (80) دنوں تک جاری رہا۔ ساسانی قلعہ بند ہو کر لڑ رہے تھے اور گاہے بگاہے قلعے سے نکل کر مجاہدین پر اچانک حملے کرتے تھے۔ ایک دن، موسم نے انگڑائی لی اور ایک زبردست ریتلا طوفان اور آندھی چلی جس نے ساسانیوں کی صفوں کو متاثر کیا۔ سیدنا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنے منتخب جاں نثاروں کے ساتھ دشمن کی خندق کے واحد پل پر فیصلہ کن حملہ کر دیا۔ انہوں نے جان کی بازی لگا کر پل پر قبضہ کر لیا اور پکار کر لشکرِ اسلام کو پکارا: ‘میں نے خندق کے پل پر قبضہ کر لیا ہے، آگے بڑھو!’۔ اس بہادرانہ اقدام نے ساسانیوں کے اوسان خطا کر دیے۔ سیدنا ہاشم بن عتبہ نے فوراً عام حملے کا حکم دیا۔ مٹی کے طوفان اور تلواروں کی گونج میں مسلمانوں نے وہ تاریخی شجاعت دکھائی جس نے ایرانیوں کے پاؤں اکھڑنے پر مجبور کر دیے۔ ساسانی کمانڈر مہران رازی میدانِ جنگ میں ہلاک ہو گیا اور ساسانی فوج تتر بتر ہو گئی۔

شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات

اس جنگ میں اسلامی لشکر کے کئی سو مجاہدین جامِ شہادت نوش کر گئے، لیکن ان کی قربانی نے کفر کی کمر توڑ دی۔ جنگ کے بعد مسلمانوں کو بے پناہ مالِ غنیمت حاصل ہوا، جس میں ساسانی محلات کا بچا ہوا سونا، قیمتی جواہرات اور ہتھیار شامل تھے۔ جب اس غنیمت کا پانچواں حصہ (خمس) مدینہ منورہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، تو انہوں نے سونے اور چاندی کے ڈھیر دیکھ کر رونا شروع کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ‘امیر المومنین! یہ تو خوشی کا مقام ہے، آپ رو کیوں رہے ہیں؟’ تو فاروقِ اعظم نے فرمایا: ‘اللہ کی قسم! یہ مال جس قوم کو بھی دیا گیا، ان کے درمیان بغض، کینہ اور دشمنی پیدا ہو گئی اور میں اپنی امت کے لیے اس دنیاوی چکا چوند سے ڈرتا ہوں’۔ تزویراتی لحاظ سے جلولاء کی فتح نے عراق پر اسلامی تسلط کو حتمی شکل دے دی اور ساسانی سلطنت کے زوال کو ناگزیر بنا دیا۔

قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق

معرکہ جلولاء ہمیں یہ ایمان افروز سبق دیتا ہے کہ مادی وسائل کی کمی کے باوجود اگر مسلمان صبر، استقامت اور اللہ پر کامل توکل اختیار کریں، تو اللہ کی نصرت لازماً نازل ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ‘کَم مِّن فِئَةٍ قَلِیلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِینَ’ (کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)۔ مجاہدینِ جلولاء نے کڑے محاصرے اور طوفانی موسم میں جس صبر و حکمت کا ثبوت دیا، وہ رہتی دنیا تک کے لیے عسکری و ایمانی رہنمائی کا بہترین نمونہ ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 7، حوادث سنہ 16 ہجری)
  • امام طبری (تاريخ الرسل والملوك، ذکر فتح جلولاء)
  • ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ، ذکر حوادث سنہ 16 ہجری)
  • بلاذری (فتوح البلدان، فتوحاتِ عراق و ایران)

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

سورۃ الانفال (آیاتِ جہاد، نصرتِ الٰہی، اور تقسیمِ غنائم کے احکام)

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

معرکہ جلولاء (۱۶ ہجری)

تاریخ و سن ہجری: ذو القعدہ ۱۶ ہجری / بمطابق دسمبر 637ء
میدانِ جنگ: جلولاء، عراق (بغداد کے شمال مشرق میں واقع ایک اہم تزویراتی مقام)
لشکرِ اسلام: 12,000 مجاہدینِ اسلام
لشکرِ اعداء: 80,000 سے زائد مسلح ساسانی فوج (گہری خندقوں اور لوہے کے کانٹوں سے لیس)
نتیجہ: مسلمانوں کی ایک اور فیصلہ کن اور تاریخی فتح جس نے ساسانی سلطنت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com