تاریخی پس منظر اور اسباب
۱۰۹۹ء (۴۹۲ ہجری) میں پہلی صلیبی جنگ کے دوران جب صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا، تو انہوں نے وہاں ستر ہزار سے زائد مسلمانوں کا بے دردی سے قتلِ عام کیا اور مسجدِ اقصی کی شدید بے حرمتی کی۔ مسلمانوں کے دلوں میں قبلہ اول کی آزادی کی تڑپ ہمیشہ موجود رہی۔ عماد الدین زنگی اور نور الدین محمود زنگی رحمہما اللہ نے جس جہادِ آزادی کی بنیاد رکھی تھی، اسے منطقی انجام تک پہنچانے کا سہرا ایوبی سلطنت کے بانی سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے سر سجا۔
جنگ کا فوری سبب کرک کے وحشی گورنر رینالڈ آف چیٹیلون (ارناط) کی مسلسل بدعہدیاں تھیں۔ اس نے حجازِ مقدس جانے والے پرامن مسلم زائرین کے قافلوں پر حملے کیے، انہیں قیدی بنایا، اور حضورِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کی۔ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے منت مانی کہ وہ اپنے ہاتھ سے اس گستاخ اور ظالم کا خاتمہ کریں گے۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے ۵۸۳ ہجری میں شام، مصر، عراق اور دیگر مسلم علاقوں سے مجاہدین کو جمع کر کے ایک عظیم الشان لشکر ترتیب دیا۔ دوسری طرف، بیت المقدس کے صلیبی بادشاہ نے یورپ کی مدد سے تمام صلیبی ریاستوں کے نائٹس کو اکٹھا کیا، جنہیں پوپ کی آشیرباد اور ان کے سب سے بڑے عقیدے ‘صلیبِ اعظم’ (True Cross) کی معیت حاصل تھی۔
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے اپنی تزویراتی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صلیبیوں کو پانی کے ذخائر سے دور ایک بنجر اور بے آب و گیاہ چوٹی حطین کی طرف راغب کیا۔ مسلمانوں نے پانی کے تمام چشموں پر قبضہ کر لیا اور صلیبیوں کے گرد گھیرا ڈال دیا۔
معرکہ حطین کے تفصیلی احوال اور فتحِ مبین
۲۵ ربیع الثانی ۵۸۳ ہجری (جولائی ۱۱۸۷ء) کو حطین کے میدان میں فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہوا۔ شدید گرمی، پیاس اور دھویں کے بادلوں نے (جو مسلمانوں نے خشک گھاس کو آگ لگا کر پیدا کیے تھے) صلیبی فوج کا دم گھٹ کر رکھ دیا۔ صلیبی نائٹس پیاس سے نڈھال ہو کر گرنے لگے۔
مسلم مجاہدین نے دلیری اور شجاعت کی بے مثال داستان رقم کرتے ہوئے دشمن کی صفوں کو تہہ و بالا کر دیا۔ صلیبیوں کا غرور خاک میں مل گیا، ان کا سب سے بڑا مرکز ‘صلیبِ اعظم’ مسلمانوں کے قبضے میں آگیا، اور ان کا بادشاہ جے آف لوزینان اور سفاک ارناط گرفتار کر لیے گئے۔ سلطان نے ارناط کو اس کے جرائم اور گستاخیِ رسول ﷺ کی پاداش میں اپنے ہاتھ سے کیفرِ کردار تک پہنچایا، جبکہ بادشاہ کے ساتھ شاہانہ سلوک کیا۔
بیت المقدس کا محاصرہ اور پرامن داخلہ
حطین کی فیصلہ کن فتح کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کا رخ کیا۔ ۲۰ ستمبر ۱۱۸۷ء کو شہر کا محاصرہ شروع ہوا۔ عیسائی کمانڈر بالیان آف ابیلین نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن مجاہدین کی یلغار کے سامنے نہ ٹک سکا۔ بالآخر عیسائیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔
۲۷ رجب ۵۸۳ ہجری، جو کہ معراج النبی ﷺ کی مبارک رات تھی، سلطان صلاح الدین ایوبیؒ فاتح بن کر بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ عیسائیوں کے برعکس، سلطان نے رحمتِ نبوی ﷺ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی قسم کا قتلِ عام نہیں کیا، بلکہ دشمن کے مردوں، عورتوں اور بچوں کو انتہائی کم فدیہ دے کر پرامن طریقے سے نکل جانے کی اجازت دی، اور غریبوں کا فدیہ خود اپنی جیب سے ادا کیا۔ مسجدِ اقصی کو عرقِ گلاب سے دھویا گیا اور ۸۸ سال بعد وہاں دوبارہ موذنِ اسلام کی صدا گونجی۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
اس عظیم معرکے میں اگرچہ کئی سرفروش مجاہدین نے شہادت کا جام پی کر جنت کا سودا کیا، لیکن ان کے خون کی برکت سے امتِ مسلمہ کا کھویا ہوا وقار بحال ہوا۔ اس فتح کے دور رس تزویراتی اثرات مرتب ہوئے:
- مشرقِ وسطیٰ میں صلیبیوں کی عسکری کمر ٹوٹ گئی۔
- بیت المقدس دوبارہ اسلامی دنیا کا دھڑکتا ہوا دل بن گیا۔
- مسلمانوں کے مابین اتحاد و اتفاق کی اہمیت واضح ہوئی۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ)
- عماد الدین الاصفہانی (الفتح القسی فی الفتح القدسی)
- ابن کثیر (البدایہ والنہایہ، جلد ۱۲)
- قاضی بہاء الدین ابن شداد (النوادر السلطانیۃ والمحاسن الیوسفیۃ)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ الاسراء (آیت ۱ - مسجدِ اقصی کی فضیلت) اور سورۃ الروم (اللہ کی نصرت اور اہل ایمان کی خوشی)
