تاریخی پس منظر اور اسباب
عراق کی فتوحات کے دوران، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یکے بعد دیگرے ساسانی سلطنت کے کئی اہم مراکز فتح کیے۔ آپ رضی اللہ عنہ عراق کے دور دراز سرحدی علاقے ‘فراض’ تک پہنچ گئے، جو رومی سلطنت، ساسانی سلطنت اور جزیرہ نما عرب کے سنگم پر واقع تھا۔ یہ سرحدی چوکی عسکری اور تجارتی لحاظ سے انتہائی حساس مقام پر تھی۔
جب رومیوں نے دیکھا کہ اسلامی لشکر ان کی سرحدوں کے قریب پہنچ چکا ہے، تو انہوں نے اسے اپنے وجود کے لیے ایک بڑا خطرہ محسوس کیا۔ انہوں نے اپنے روایتی حریفوں (ایرانیوں) اور مقامی عیسائی عرب قبائل (جیسے بنو تغلب، ایاض اور نمر) سے رابطہ کیا اور اسلام کے بڑھتے ہوئے طوفان کو روکنے کے لیے ایک جیو پولیٹیکل اتحاد قائم کیا۔ یہ تاریخ کا ایک نادر موقع تھا جہاں دو عظیم دشمن سلطنتیں (روم اور فارس) ایک مشترکہ دشمن (مسلمانوں) کے خلاف یکجا ہو گئی تھیں۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
رومیوں اور ایرانیوں نے مل کر ایک بہت بڑا لشکرِ جرار تیار کیا جس کی تعداد مورخین کے مطابق تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار (150,000) تھی۔ اس کے مقابلے میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے زیرِ اثر صرف پندرہ ہزار (15,000) مجاہدین کا لشکر تھا۔ عددی اعتبار سے یہ مقابلہ 1 اور 10 کا تھا، جو بظاہر ناممکن نظر آتا تھا۔
میدانِ جنگ کے درمیان دریائے فرات بہہ رہا تھا۔ دشمن کی متحدہ افواج نے دریا کے پار پڑاؤ ڈالا۔ انہوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ: ‘یا تو تم دریا پار کر کے ہماری طرف آؤ، یا ہمیں دریا پار کر کے اپنی طرف آنے دو۔’ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عسکری دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا: ‘تم ہی دریا پار کر کے ہماری طرف آ جاؤ۔’
معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ
دشمن کی متحدہ افواج نے بڑے تکبر اور یقین کے ساتھ دریائے فرات کو عبور کیا۔ رومیوں اور ساسانیوں کا خیال تھا کہ ان کا ٹڈی دل لشکر مسلمانوں کو پیروں تلے روند ڈالے گا۔ جیسے ہی دشمن نے دریا عبور کیا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو تزویراتی حصوں میں تقسیم کر دیا۔
جنگ کا آغاز ہوتے ہی مجاہدینِ اسلام نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے دشمن کی صفوں میں موجود تال میل کی کمی (جو مختلف اقوام کے یکجا ہونے کی وجہ سے تھی) کا فائدہ اٹھایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رومیوں اور ایرانیوں کے درمیان موجود دباؤ کے مقامات پر زوردار حملہ کیا اور ان کے لشکر کو تین حصوں میں کاٹ دیا۔ عیسائی عرب قبائل سب سے پہلے بدحواسی کا شکار ہوئے۔ مسلمانوں کے پے در پے حملوں نے رومیوں اور ایرانیوں کے پیر اکھاڑ دیے۔ دریائے فرات ان کے عقب میں تھا، جس کی وجہ سے ان کے لیے فرار کی راہیں مسدود ہو گئیں اور وہ اپنے ہی جال میں پھنس گئے۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
اس تاریخی معرکے میں اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو وہ تاریخی فتح عطا کی جس کی نظیر عسکری تاریخ میں نہیں ملتی۔ دشمن کے تقریباً 50,000 سے زائد سپاہی مارے گئے، جب کہ مسلمانوں کے صرف 200 کے قریب مجاہدین نے جامِ شہادت نوش کیا۔
معرکہِ فراض کے تزویراتی اثرات انتہائی گہرے تھے:
- اس فتح نے رومی اور ایرانی سلطنتوں کا مشترکہ رعب خاک میں ملا دیا۔
- عراق پر اسلامی سلطنت کی گرفت مکمل طور پر مضبوط ہو گئی۔
- اس جنگ نے ثابت کر دیا کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تاریخِ انسانی کے عظیم ترین جرنیلوں میں سے ایک ہیں۔
- اس معرکے کے فوراً بعد، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے شام کی مہم کی قیادت سنبھالنے کا حکم ملا۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
معرکہِ فراض ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ مادی وسائل اور افرادی قوت کی کثرت اللہ کی نصرت کے سامنے ہیچ ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
"كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ”
(ترجمہ: بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل جماعت اللہ کے اذن سے ایک کثیر جماعت پر غالب آ گئی، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔)
مجاہدینِ اسلام کا تقویٰ، اطاعتِ امیر اور جذبہِ شہادت ہی ان کی حقیقی طاقت تھی جس نے مادی دنیا کے دو سپر پاورز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام ابن جریر الطبری، تاریخ الامم والملوک (تاریخ الطبری)، ذکر حوادث سنہ 12 ہجری۔
- امام ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 6، معرکہ فراض کا بیان۔
- ابن الاثیر الجزری، الکامل فی التاریخ، فتح فراض کا احوال۔
- علامہ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، خلافتِ راشدہ کا دور۔
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ الانفال (آیت 65: غلبہ و نصرت کا الٰہی وعدہ) اور سورۃ التوبہ
