تاریخی پس منظر اور اسباب
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں معرکہ چشمۂ ارواہ (فتح دہلی و ترائن دوم) کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ پہلی جنگِ ترائن (۵۸۷ ہجری) میں راجپوت اتحاد کے ہاتھوں عارضی پسپائی کے بعد، سلطان شہاب الدین محمد غوری نے چین و آرام کو خود پر حرام کر لیا۔ وہ ایک سال تک دن رات جنگی تیاریوں میں مصروف رہا۔ غوری سلطنت کے اس غازی نے اپنی شکست کا بدلہ لینے اور خطے میں کفر و شرک کی تاریکیوں کو مٹانے کے لیے ایک لاکھ بیس ہزار منتخب مجاہدین کا لشکر تیار کیا۔ دوسری طرف، پرتھوی راج چوہان نے ہندوستانی راجاؤں کا ایک بہت بڑا اتحاد قائم کیا جس میں کثیر فوج اور ہاتھیوں کے لشکر شامل تھے۔ یہ جنگ محض دو بادشاہوں کی جنگ نہ تھی بلکہ یہ کفر و اسلام کا فیصلہ کن معرکہ تھا۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
سلطان معز الدین غوری اپنے عظیم لشکر کے ہمراہ غزنی سے روانہ ہوا اور چشمۂ ارواہ (جو بعد میں فتحِ دہلی اور اجمیر کا سبب بنا) کے قریبی میدانِ جنگ میں پہنچ کر ڈیرے ڈالے۔ سلطان غوری نے اپنی روایتی جنگی حکمتِ عملی کے برعکس ایک منفرد تزویراتی جنگی منصوبہ تیار کیا۔ اس نے اپنے لشکر کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا۔ چار دستے (ہر دستہ دس ہزار سبک رفتار تیر اندازوں پر مشتمل تھا) دشمن کو مختلف سمتوں سے زچ کرنے کے لیے مقرر کیے گئے، جبکہ پانچواں دستہ سلطان نے اپنے پاس ریزرو کے طور پر رکھا۔ راجپوتوں کو اپنی عددی برتری اور جنگی ہاتھیوں پر ناز تھا، لیکن وہ غوری لشکر کی اس جدید اور متحرک صف بندی سے مکمل بے خبر تھے۔
معرکہ کے تفصیلی احوال اور غازیوں کی شجاعت
جنگ کا آغاز فجر کے وقت ہوا جب راجپوت ابھی مکمل طور پر تیار بھی نہیں ہوئے تھے۔ سلطان کی ہدایت پر چاروں سبک رفتار دستوں نے راجپوت لشکر پر اچانک تیر اندازی شروع کر دی اور پھر فوراً پیچھے ہٹ گئے۔ اس ‘حرب و گریز’ (ہٹ اینڈ رن) کی حکمتِ عملی نے ہندوستانی فوج کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ جب دشمن کی صفوں میں افراتفری پھیل گئی، تو دوپہر کے وقت سلطان نے اپنے بارہ ہزار زرہ پوش سواروں کے ساتھ خود دلیرانہ حملہ کیا۔ قطب الدین ایبک کی سرکردگی میں غازیانِ اسلام نے شیروں کی طرح دشمن پر یلغار کی۔ راجہ گوبند رائے، جس نے پہلی جنگ میں سلطان کو زخمی کیا تھا، اس معرکے میں مارا گیا۔ پرتھوی راج چوہان نے میدانِ جنگ سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن سرسوتی کے قریب گرفتار کر لیا گیا، اور یوں چشمۂ ارواہ کے اس تاریخی معرکے میں اسلام کا پرچم لہرایا۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
اس معرکے میں کثیر تعداد میں سرفروشانِ اسلام نے جامِ شہادت نوش کر کے برصغیر کی سرزمین کو اپنے لہو سے سیراب کیا۔ اس شاندار فتح نے دہلی اور اجمیر کے دروازے مسلمانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے کھول دیے۔ سلطان غوری نے قطب الدین ایبک کو ہند کا گورنر مقرر کیا، جنہوں نے آگے چل کر سلطنتِ دہلی کی بنیاد رکھی۔ اس فتح کا سب سے بڑا تزویراتی اثر یہ ہوا کہ ہندوستان میں صدیوں پرانے بت پرستی کے غلبے کو کاری ضرب لگی اور صوفیائے کرام، بالخصوص حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ کو دعوت و تبلیغ کے لیے ایک پرامن اور سازگار ماحول میسر آیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں نفوس مشرف بہ اسلام ہوئے۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
اس معرکے کی کامیابی اللہ تعالیٰ کے اس ابدی قانون کی عکاس ہے کہ کامیابی مادی وسائل کے انبار سے نہیں بلکہ پختہ ایمان، عسکری ڈسپلن اور اعلیٰ حکمتِ عملی سے حاصل ہوتی ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: ‘كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ’ (کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئیں)۔ سلطان غوری کا تقویٰ، راتوں کو رو رو کر دعا مانگنا اور دن کو تدبیر کے ساتھ میدان میں اترنا، قیامت تک آنے والے مسلم مجاہدین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- قاضی منہاج سراج (طبقاتِ ناصری)
- ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ)
- ملا عبدالقادر بدایونی (منتخب التواریخ)
- ابوالقاسم فرشتہ (تاریخِ فرشتہ)
- حسن نظامی (تاج المآثر)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ الصف، آیت ۱۳: 'وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ' (عمومی نصرتِ الٰہی کا انطباق)
