معارک و فتوحاتِ خلافت راشدہ

معرکہ اصطخر (۲۸ ہجری)

« ۲۸ ہجری تا ۲۹ ہجری (عہدِ خلافتِ عثمانی) »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

فارس (ایران) کا قدیم شہر اصطخر ساسانی سلطنت کا ایک نہایت اہم مذہبی اور سیاسی مرکز تھا، جہاں زرتشتیوں کے مقدس ترین آتش کدے واقع تھے۔ عہدِ فاروقی میں اصطخر کو فتح کر لیا گیا تھا، لیکن خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، جب یزدگرد سوم نے دوبارہ سر اٹھایا، تو اصطخر کے گورنر اور وہاں کے ساسانی امراء نے بغاوت کر دی۔ ۲۸ ہجری (بعض روایات کے مطابق ۲۹ ہجری) میں خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اس بغاوت کو کچلنے اور مفتوحہ علاقوں میں امن و امان بحال کرنے کے لیے بصرہ کے نئے گورنر حضرت عبد اللہ بن عامر بن کریز کو مہم سونپی گئی۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ ایک نوجوان، انتہائی ذہین اور مہم جو سپہ سالار تھے۔ انہوں نے بصرہ اور کوفہ کے مجاہدین پر مشتمل ایک طاقتور لشکر تیار کیا۔ اس مہم میں ان کے ساتھ نامور صحابی حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ دوسری طرف اصطخر کے قلعہ بند ساسانی باغیوں نے ایک کثیر فوج جمع کر رکھی تھی اور انہوں نے شہر کے گرد دفاعی حصار قائم کر لیا تھا۔ مسلم لشکر نے پیش قدمی کرتے ہوئے اصطخر کا محاصرہ کر لیا اور مجاہدین کو مختلف اطراف میں متعین کیا تاکہ دشمن کا فرار ناممکن بنایا جا سکے۔

معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ

اصطخر کا معرکہ انتہائی شدید اور خونریز تھا۔ شہر کے مضبوط قلعے اور فصیلوں کی وجہ سے مسلمانوں کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ساسانی فوج نے قلعے کے اندر سے تیر اندازی اور سنگ باری کے ذریعے مسلمانوں کو پسپا کرنے کی کوشش کی، لیکن مجاہدینِ اسلام کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے تزویراتی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے فصیل کے کمزور حصوں پر منجنیقوں کے ذریعے حملہ کیا اور بالاخر مسلمان فصیل کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ شہر کے اندر گلی کوچوں میں شدید جنگ ہوئی، جس میں صحابہ کرام اور تابعین عظام نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ ایرانی فوج کے حوصلے پست ہو گئے اور ان کے کئی نامور جرنیل اس لڑائی میں مارے گئے۔

شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات

اس طویل اور کٹھن معرکے میں کئی نامور مجاہدینِ اسلام نے جامِ شہادت نوش فرمایا، جن کی قربانیوں کی بدولت اصطخر پر دوبارہ اسلامی پرچم لہرایا۔ اس فتح کے تزویراتی اثرات انتہائی دور رس ثابت ہوئے۔ اصطخر کی دوبارہ فتح نے پورے صوبہ فارس میں ساسانیوں کی آخری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اس معرکے کے بعد یزدگرد سوم بے یار و مددگار ہو کر خراسان کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوا، اور یوں قدیم ایرانی سلطنت کا دل سمجھے جانے والے خطے پر اسلامی خلافت کی گرفت ہمیشہ کے لیے مضبوط ہو گئی۔ مفتوحہ علاقوں سے کثیر غنیمت اور خراج بیت المال میں جمع کرایا گیا۔

قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق

معرکہ اصطخر کی فتح اللہ رب العزت کی اس سنت کی عکاس ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں استقامت اختیار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں زمین کی وراثت اور اقتدار عطا فرماتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ النور کی آیت ۵۵ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ‘وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ’ (اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں خلافت عطا فرمائے گا)۔ اس معرکے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ عسکری فتوحات صرف افرادی قوت پر نہیں بلکہ ایمان کی پختگی، امیر کی اطاعت اور جہاد کے سچے جذبے پر منحصر ہوتی ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (تاریخ الرسل والملوک)
  • ابو الحسن علی بن الاثیر (الکامل فی التاریخ)
  • ابو الحسن احمد بن یحییٰ البلاذری (فتوح البلدان)
  • ابن کثیر الدمشقی (البدایہ والنہایہ)

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

جہاد اور غلبہ اسلام کے عمومی احکامات (جیسے سورۃ التوبہ اور سورۃ الفتح کی آیات)

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

معرکہ اصطخر (۲۸ ہجری)

تاریخ و سن ہجری: ۲۸ ہجری تا ۲۹ ہجری (عہدِ خلافتِ عثمانی)
میدانِ جنگ: اصطخر، صوبہ فارس (موجودہ ایران)
لشکرِ اسلام: تقریباً ۲۰،۰۰۰ مجاہدین (کوفہ اور بصرہ کے لشکر)
لشکرِ اعداء: تقریباً ۴۰،۰۰۰ ایرانی عساکر اور مقامی باغی
نتیجہ: اسلام کی شاندار اور حتمی فتح، فارس میں ساسانی مزاحمت کا خاتمہ اور اسلامی عملداری کا مضبوط استحکام
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com