تاریخی پس منظر اور اسباب
معرکۂ منصورہ تاریخِ اسلام کا وہ درخشاں باب ہے جس نے نہ صرف مصر کو یورپی استعمار کے تسلط سے بچایا بلکہ صلیبیوں کے اس تکبر کو خاک میں ملا دیا جو وہ ‘ساتویں صلیبی مہم’ کی صورت میں لے کر اٹھے تھے۔ فرانس کے بادشاہ لوئی نہم (بشمول پوپ کی آشیرباد کے) نے بیت المقدس پر دوبارہ قبضے کے خواب کے ساتھ مصر پر حملے کا منصوبہ بنایا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر عالمِ اسلام کے دھڑکتے دل یعنی مصر کو مغلوب کر لیا جائے، تو شام اور فلسطین پر قبضہ آسان ہو جائے گا۔
صلیبی لشکر 1249ء میں دمیاط (Damietta) کے ساحل پر اترا۔ اس کڑے وقت میں ایوبی سلطان الصالح ایوب شدید علیل تھے اور اسی دوران ان کا انتقال ہو گیا، جس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہو سکتے تھے۔ تاہم، ان کی باہمت بیوہ شجر الدر نے کمالِ ہوشیاری سے سلطان کی موت کی خبر کو مخفی رکھا اور مقتدر امراء اور مملوک جرنیلوں کے تعاون سے دفاعی حکمتِ عملی مرتب کی اور سلطان کے بیٹے توران شاہ کو حصن کیفا سے فوراً طلب کیا۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
صلیبیوں نے دمیاط پر آسانی سے قبضہ کرنے کے بعد قاہرہ کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ مسلمانوں نے دفاعی لائن قائم کرنے کے لیے نیل کے مشرقی دہانے پر واقع شہر ‘المنصورہ’ کا انتخاب کیا۔ المنصورہ کی بنیاد سلطان الکامل نے رکھی تھی، جو عسکری اعتبار سے انتہائی تزویراتی اہمیت کا حامل مقام تھا۔
مسلمانوں کی قیادت شجر الدر نے وقتی طور پر سنبھالی تھی، جبکہ میدانِ جنگ میں کمانڈ امیر فخر الدین یوسف کے پاس تھی۔ دوسری طرف، شاہِ فرانس لوئی نہم اپنے بھائی رابرٹ آف آرتوائس کی معیت میں ایک مہیب اور جدید ترین اسلحے سے لیس نائٹس کے لشکر کے ساتھ المنصورہ کے بالمقابل پہنچ گیا۔ صلیبیوں نے نیل کے دوسری طرف کیمپ لگا لیا اور المنصورہ میں داخلے کے لیے نہر اشموم کو عبور کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔
معرکہ کے تفصیلی احوال اور شجاعتِ مجاہدین
جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک غدار نے صلیبیوں کو نہر اشموم کا ایک اتھلا حصہ (مخاضہ) دکھا دیا، جہاں سے صلیبی نائٹس اچانک نہر پار کر گئے۔ رابرٹ آف آرتوائس کی قیادت میں صلیبیوں کے ہر اول دستے نے اچانک حملہ کر کے مسلم کیمپ کو نقصان پہنچایا، جس میں امیر فخر الدین یوسف بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
اس نازک مرحلے پر مملوک کمانڈر رکن الدین بیبرس البندقداري نے کمالِ جرات اور عسکری چال کا مظاہرہ کیا۔ اس نے المنصورہ شہر کے دروازے چوپٹ کھول دیے اور مجاہدین کو گلیوں میں چھپا دیا۔ صلیبی نائٹس نے سمجھا کہ مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے ہیں، چنانچہ وہ بغیر کسی ترتیب کے المنصورہ کی تنگ گلیوں میں داخل ہو گئے۔ جیسے ہی صلیبی فوج کا بڑا حصہ شہر کی گلیوں میں پھنس گیا، بیبرس نے اچانک تمام دروازے بند کروا دیے اور مسلمانوں اور مقامی شہریوں نے مل کر چہار اطراف سے ان پر دھاوا بول دیا۔ تنگ گلیوں میں صلیبیوں کے بھاری گھوڑے اور جنگی زرہیں ان کے لیے وبالِ جان بن گئیں۔ مجاہدینِ اسلام کی شجاعت اور بے جگری سے لڑنے کے نتیجے میں رابرٹ آف آرتوائس سمیت تقریباً پورا صلیبی ہراول دستہ مارا گیا۔
اس کے فوراً بعد نووارد سلطان توران شاہ محاذ پر پہنچ گئے اور جنگ کی براہِ راست کمانڈ سنبھال لی۔ مسلمانوں نے نیل میں صلیبی بحری جہازوں کے سپلائی روٹس کو کاٹ دیا، جس سے شاہ لوئی کی باقی ماندہ فوج میں قحط اور بیماریاں پھیل گئیں۔ مجبوراً صلیبیوں کو پسپائی اختیار کرنی پڑی، لیکن مسلمانوں نے پیچھا کر کے ‘فارسکور’ کے مقام پر انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
اس جنگ میں مسلمانوں نے اپنے نامور جرنیل امیر فخر الدین یوسف اور سینکڑوں سرفروش مجاہدین کی قربانی دی، لیکن اس کے بدلے عیسائی دنیا کو وہ تاریخی ہزیمت اٹھانی پڑی جس کی مثال صدیوں تک نہ مل سکی۔ فارسکور کے حتمی معرکہ میں فرانسیسی فوج مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور شاہِ فرانس لوئی نہم کو گرفتار کر لیا گیا۔ شاہِ فرانس کو لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر المنصورہ میں ‘دارِ ابن لقمان’ (ابراہیم بن لقمان کے گھر) میں قید رکھا گیا۔
شاہِ فرانس نے اپنی رہائی کے لیے دمیاط کا شہر مسلمانوں کے حوالے کرنے اور 400,000 دینار تاوان ادا کرنے کا معاہدہ کیا۔ یہ معرکہ عسکری تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس نے:
- مصر اور بلادِ اسلامیہ سے ساتویں صلیبی مہم کا نام و نشان مٹا دیا۔
- مصر میں صدیوں پرانی ایوبی سلطنت کے عملی خاتمے اور شاندار ‘سلطنتِ مملوک’ (Mamluk Sultanate) کے عروج کی راہ ہموار کی، جس نے بعد میں مغلوں (تاتاریوں) اور صلیبیوں کا راستہ روکا۔
ایمانی اسباق اور عسکری حکمتِ عملی
معرکۂ المنصورہ سے ہمیں یہ ایمانی اور عسکری اسباق ملتے ہیں کہ دشمن خواہ کتنا ہی مادی طور پر برتر کیوں نہ ہو، اگر مسلمان اتحاد، عزمِ مصمم اور شجاعت کا مظاہرہ کریں تو نصرتِ الٰہی یقیناً ان کے قدم چومتی ہے۔ رکن الدین بیبرس کی گوریلا جنگی حکمتِ عملی، گلیوں میں دشمن کو پھنسانا اور دشمن کے سپلائی لائنز کو معطل کرنا آج بھی جدید عسکری درسگاہوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ نیز، نازک ترین لمحات میں قیادت کی تبدیلی کو پرامن اور خفیہ رکھ کر داخلی استحکام کو برقرار رکھنا شجر الدر کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 13)
- المقریزی (السلوك لمعرفة دول الملوك)
- ابن تغری بردی (النجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة)
- جلال الدین السیوطی (تاریخ الخلفاء)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
یہ معرکہ عہدِ نبوی کے بعد کا ہے، تاہم نصرتِ الٰہی اور غلبۂ اسلام پر مبنی عمومی قرآنی ارشادات جیسے سورۃ الصف کی آیت 13: 'وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ' مجاہدین کے جذبۂ جہاد کی اساس رہے ہیں۔
