تاریخی پس منظر اور معرکہ کے اسباب
خلافتِ صدیقی کے اواخر میں، خلیفہءِ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سلطنتِ روم (بزنطینی سلطنت) کے خلاف شام کی سرحدوں پر باقاعدہ فتوحات کا آغاز فرمایا۔ شام کی اسلامی فتح کے لیے انہوں نے چار بڑے لشکر روانہ کیے جن کی قیادت حضرت ابو عبیدہ بن الجراح، حضرت عمرو بن العاص، حضرت یزید بن ابی سفیان اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم فرما رہے تھے۔ رومی قیصر ہرقل نے مسلم پیش قدمی کو روکنے کے لیے ایک ٹڈی دل لشکر جمع کیا جس کا حجم ایک لاکھ کے قریب تھا۔ جب رومیوں کے اس عظیم الشان اجتماع کی خبریں مدینہ منورہ پہنچیں تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عراقی محاذ پر موجود بے مثال جرنیل، سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو فوری طور پر شام پہنچنے کا حکم دیا۔
لشکرِ اسلام کا ملاپ اور بے مثال سفرِ ریگستان
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے تاریخ کا سب سے جرات مندانہ اور خطرناک سفر اختیار کیا۔ انہوں نے عراقی سرحد سے شام کے صحرائے سماوہ کو صرف پانچ دنوں میں عبور کیا، جہاں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ شام پہنچ کر انہوں نے تمام بکھرے ہوئے اسلامی لشکروں کو یکجا کیا اور کمالِ عسکری مہارت سے رومیوں کے خلاف ایک مشترکہ دفاعی و جارحانہ حکمتِ عملی تشکیل دی۔ تمام لشکروں نے باہمی مشاورت سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنا سپہ سالارِ اعظم تسلیم کر لیا۔ مسلم افواج اجنادین کے وسیع میدان میں جمع ہوئیں، جہاں دوسری طرف رومی افواج اپنے پورے جاہ و جلال، لوہے اور زرہ بکتری لباس میں ملبوس صف آرا ہو چکی تھیں۔
میدانِ جنگ کی صف بندی اور تزویراتی چالیں
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عسکری تاریخ کا ایک اچھوتا اور جدید ترین لشکر تیار کیا۔ انہوں نے مجاہدین کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا: وسطی حصہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا، میمنہ (دائیں بازو) پر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور میسرہ (بائیں بازو) پر حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ لشکر کا سب سے آگے کا دستہ (مقدمۃ الجیش) حضرت کثیر بن شہاب کی کمان میں دیا گیا۔ رومی فوج کا سپہ سالار ہرقل کا سگا بھائی تھیوڈور تھا، جو اپنی عددی برتری کے زعم میں مسلمانوں کو کچلنے کے لیے پرعزم تھا۔ جنگ سے قبل رومیوں نے مسلمانوں کو لالچ دینے کی کوشش کی، لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے ایمان اور شجاعت کا پیغام دیا۔
معرکہ کا آغاز اور شجاعتِ صحابہ کے ایمان افروز واقعات
معرکہ کا باقاعدہ آغاز انفرادی مقابلوں (مبارزت) سے ہوا۔ رومیوں کی طرف سے نامی گرامی جنگجو نکلے جنہیں مسلم شیروں نے جہنم واصل کیا۔ اس معرکے میں حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کی شجاعت نے رومیوں کے دلوں پر ہیبت طاری کر دی۔ انہوں نے اپنے تن کے کپڑے اتارے اور ننگی تلوار لے کر رومی صفوں میں گھس گئے، جس کی وجہ سے رومی انہیں ‘عاری جثہ’ (بے لباس جنگجو) کہنے لگے اور ان کے خوف سے بھاگنے لگے۔ جنگ کے دوران رومی گورنر وردان نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے قتل کرنے کی سازش تیار کی اور انہیں جنگ بندی کے بہانے تنہا بلایا، لیکن حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو اس سازش کا قبل از وقت علم ہو گیا اور انہوں نے الٹا رومی چال کو ناکام بنا کر وردان کا سر قلم کر دیا۔
رومیوں کی شکستِ فاش اور معرکہ کا انجام
گورنر وردان کے قتل اور مجاہدین کے پے در پے حملوں نے رومیوں کے حوصلے پست کر دیے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عین اس وقت جب رومی فوج تھکن اور خوف کا شکار تھی، پورے لشکر کو فیصلہ کن حملے کا حکم دیا۔ تکبیر کے نعروں کی گونج میں شیرانِ اسلام رومی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے۔ رومیوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ افراتفری کے عالم میں بھاگ کھڑے ہوئے۔ تھیوڈور میدانِ جنگ سے فرار ہو گیا جبکہ ہزاروں رومی فوجی مقتول ہوئے۔ اس عظیم معرکے میں مسلمانوں کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی اور شام کی سر زمین پر عیسائی تسلط کی بنیادیں ہل گئیں۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
اس عظیم الشان معرکے میں تقریباً ساڑھے تین سو سے چار سو مسلمان شہید ہوئے، جن میں جلیل القدر صحابہ جیسے حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ، حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ (حضرت عمرو بن عاص کے بھائی) اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔ معرکہ اجنادین شام کی مہمات کا پہلا بڑا اور فیصلہ کن معرکہ تھا، جس نے ثابت کر دیا کہ جزیرہ نما عرب سے نکلنے والی یہ نوخیز عسکری قوت وقت کی سپر پاورز کو شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ اس فتح کے نتیجے میں دمشق، بیت المقدس اور حمص کی فتح کے دروازے کھل گئے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر، البداية والنهاية (جلد ہفتم، حوادثِ ۱۳ ہجری)
- علامہ طبری، تاریخ الرسل والملوک (تاریخ الطبری)
- امام واقدی، فتوح الشام (احوالِ معرکہ اجنادین)
- ابن اثیر، الکامل فی التاریخ
- بلاذری، فتوح البلدان
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
عام قرآنی اشارات برائے نصرتِ الٰہی و غلبہءِ روم (سورۃ الروم: ۱-۵، اور سورۃ الانفال کی جہادی آیاتِ نصرت)
