معارک و فتوحاتِ خلافت راشدہ

معرکہ عین التمر (۱۲ ہجری)

« ماہِ صفر یا ربیع الاول ۱۲ ہجری / جولائی ۶۳۳ء »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

معرکہ عین التمر (۱۲ ہجری) خلافتِ راشدہ کے دور میں عراق کی فتوحات کا ایک انتہائی اہم اور تزویراتی سنگِ میل ہے۔ خلیفہ اول امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پر، مجاہدِ اعظم حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عراق میں ساسانی سلطنت کے تسلط کو ختم کرنے کے لیے پے در پے مہمات شروع کی تھیں۔ معرکہ ذات السلاسل، معرکہِ ولجہ، معرکہِ الیس اور فتحِ انبار کے بعد، ساسانیوں اور ان کے حلیف نصرانی عرب قبائل کے لیے اسلامی فتوحات کا یہ سیلاب ناقابلِ برداشت ہو چکا تھا۔ عین التمر ایک بڑا تجارتی نخلستان اور ایک مضبوط فوجی قلعہ تھا جو صحرائے عرب کے دہانے پر واقع تھا۔ یہ مقام ساسانی سلطنت اور جزیرہ کے عرب نصرانی قبائل (بنو نمر، تغلب اور ایاس) کے لیے ایک اہم دفاعی مرکز تھا۔ ساسانی ایرانی جرنیل مہران بن بہرام نے یہاں ایک بڑی فوج جمع کر رکھی تھی، جب کہ عرب نصرانیوں کا بڑا جتھہ عقہ بن قیس النمری کی قیادت میں مسلمانوں سے لڑنے کے لیے بے چین تھا تاکہ انبار اور الیس کی شکستوں کا بدلہ لیا جا سکے۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ انبار کی فتح سے فارغ ہو کر نہایت تیزی کے ساتھ عین التمر کی طرف بڑھے۔ دوسری طرف، ایرانی اور نصرانی عربوں کا ایک بہت بڑا اتحاد جنگ کے لیے تیار کھڑا تھا۔ نصرانی عرب قائد عقہ بن قیس انتہائی مغرور اور متکبر شخص تھا۔ اس نے ایرانی جرنیل مہران بن بہرام سے کہا: ‘عربوں کے طرزِ جنگ سے ہم زیادہ واقف ہیں، اس لیے خالد بن ولید سے پہلے ہم لڑیں گے۔’ مہران، جو مسلمانوں کی جنگی صلاحیتوں اور شجاعت سے مرعوب ہو چکا تھا، نے چالاکی سے کام لیا اور کہا: ‘تم بالکل سچ کہتے ہو، تم لوگ پہلے لڑو، اگر تمہیں مدد کی ضرورت پڑی تو ہم پیچھے موجود ہیں’۔ مہران کا مقصد یہ تھا کہ اگر نصرانی عرب جیت گئے تو فتح کا سہرا ساسانیوں کے سر سجے گا، اور اگر وہ ہار گئے تو ایرانی فوج محفوظ رہے گی۔ چنانچہ عقہ بن قیس نے اپنے لشکر کی صف بندی کی اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے آگے بڑھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کمالِ حکمتِ عملی کے ساتھ اپنے لشکر کو منظم کیا اور دشمن کی حرکات و سکنات کا بغور جائزہ لیا۔

معرکہ کے تفصیلی احوال اور شجاعتِ خالد بن ولیدؓ

جب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے، تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی حیرت انگیز فوجی چال چلی جس نے چشمِ زدن میں جنگ کا فیصلہ کر دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ عقہ بن قیس نصرانی لشکر کی صفوں کے آگے غرور سے ٹہل رہا ہے اور اپنی فوج کو ترتیب دے رہا ہے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنے منتخب جانثاروں کے دستے سے فرمایا: ‘میری پشت کی حفاظت کرنا، میں خود عقہ پر جھپٹوں گا’۔ اس سے پہلے کہ نصرانی لشکر سنبھل پاتا، سیف اللہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے بجلی کی مانند عقہ بن قیس پر حملہ کیا۔ انہوں نے تن تنہا دشمن کی صفوں کو چیرا، عقہ کو دبوچا، اسے اس کے گھوڑے سے نیچے گرایا اور زندہ گرفتار کر کے اسلامی صفوں میں لے آئے۔ اپنے سپہ سالار کی اچانک گرفتاری دیکھ کر نصرانی لشکر کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ بغیر کسی باقاعدہ جنگ کے افراتفری کا شکار ہو کر پیچھے بھاگ کھڑا ہوا۔

قلعہ کا محاصرہ اور فتح

جب ایرانی جرنیل مہران بن بہرام نے دیکھا کہ عقہ گرفتار ہو چکا ہے اور نصرانی لشکر بھاگ رہا ہے، تو وہ اپنی فوج لے کر قلعہ چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا اور مدائن کی راہ لی۔ مہم جو نصرانی عربوں نے قلعے میں پناہ لے لی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فوراً قلعے کا سخت محاصرہ کر لیا۔ چند دن کے محاصرے کے بعد، قلعہ بند نصرانیوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈالنے کی درخواست کی کہ انہیں امان دی جائے، لیکن حضرت خالد بن ولیدؓ نے بلا شرط ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔ بالاآخر انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ عقہ بن قیس اور دیگر جنگجو سرداروں کو ان کے جرائم اور غداری کی سزا کے طور پر قتل کر دیا گیا اور قلعے کے جنگجوؤں کو قیدی بنا لیا گیا۔

مائیکل اور عیسائی خانقاہ کے قیدیوں کا تاریخی واقعہ

عین التمر کی اس فتح کے دوران، قلعے کے اندر ایک عیسائی خانقاہ (مندر/گرجا) سے چالیس نوجوان قیدی ملے، جنہیں عیسائی مذہبی تعلیم و تربیت کے لیے وہاں رکھا گیا تھا۔ ان نوجوانوں میں سے بعض تاریخِ اسلام کی نہایت نامور شخصیات کے آباؤ اجداد بنے۔ ان قیدیوں میں شامل تھے:

  • نصیر: جو افریقہ اور اندلس (اسپین) کے عظیم فاتح موسیٰ بن نصیر کے والد بنے۔
  • یسار: جو سیرتِ نبوی کے سب سے پہلے عظیم مؤرخ محمد بن اسحاق (صاحبِ سیرت ابن اسحاق) کے دادا تھے۔
  • حمران بن ابان: جو خلیفہِ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مشہور کاتب اور مشیر بنے۔

ان تمام نوجوانوں نے بعد میں اسلام قبول کیا اور ان کی نسلوں نے اسلامی تاریخ، علم اور فتوحات میں سنہرا کردار ادا کیا۔

فتح کے تزویراتی اثرات اور ایمانی اسباق

معرکہ عین التمر کی فتح نے ساسانی سلطنت کے مغربی دفاعی حصار کو مکمل طور پر توڑ دیا۔ اس فتح کے بعد شام اور عراق کی سرحدوں پر مسلمانوں کا کنٹرول مضبوط ہو گیا اور صحرائی راستے محفوظ ہو گئے۔ اس جنگ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جنگی حکمتِ عملی، دشمن کے نفسیاتی پہلوؤں کا ادراک، اور سپہ سالار کی ذاتی شجاعت بسا اوقات ہزاروں کے لشکر پر بھاری پڑتی ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا عقہ کو زندہ گرفتار کرنا جنگ کی تاریخ کا ایک بے مثال کارنامہ ہے۔ ساسانیوں کا غرور خاک میں مل گیا اور عرب قبائل پر واضح ہو گیا کہ اسلام کی طاقت کو مٹایا نہیں جا سکتا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام ابن جریر الطبری، تاريخ الرسل والملوك (تاریخ الطبری)۔
  • امام ابن کثیر، البداية والنهاية (جلد ۷، حوادثِ ۱۲ ہجری)۔
  • امام بلاذری، فتوح البلدان۔
  • ابن الاثیر الجزری، الكامل في التاريخ۔

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

عام قرآنی آیات جو جہاد، نصرتِ الٰہی اور کفار کے مغلوب ہونے کے متعلق ہیں، جیسے سورۃ الفتح کی آیت ۱۶ کی پیشگوئی: 'تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ'۔

غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

معرکہ عین التمر (۱۲ ہجری)

تاریخ و سن ہجری: ماہِ صفر یا ربیع الاول ۱۲ ہجری / جولائی ۶۳۳ء
میدانِ جنگ: عین التمر (انبار کے مغرب میں، موجودہ کربلا، عراق)
لشکرِ اسلام: تقریباً ۵،۰۰۰ سے ۱۰،۰۰۰ مجاہدینِ اسلام
لشکرِ اعداء: سلطنتِ فارس (ساسانیوں) اور عرب نصرانی قبائل (بنو نمر، تغلب، ایاس) کا متحدہ لشکر (تقریباً ۱۵،۰۰۰ جنگجو)
نتیجہ: اسلامی لشکر کی فیصلہ کن اور تزویراتی فتح، قلعہ عین التمر پر اسلامی پرچم لہرا دیا گیا، ساسانی رعب و دبدبے کا خاتمہ اور شام و عراق کی سرحدیں محفوظ ہوئیں۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com