تاریخی پس منظر اور اسباب
ذی القعدہ 6 ہجری میں رونما ہونے والی صلح حدیبیہ تاریخِ اسلام کا ایک عظیم سنگِ میل اور تزویراتی نقطۂ آغاز ہے۔ اس صلح کے نتیجے میں قریشِ مکہ کی طرف سے جنگ کا خطرہ ٹل گیا اور مسلمانوں کو داخلی طور پر امن و سکون نصیب ہوا۔ نبوت کے اس تزویراتی سکون (Strategic Pause) کو رسول اللہ ﷺ نے دعوتِ اسلام کو جزیرہ نما عرب سے باہر نکال کر عالمی سطح پر پھیلانے کے لیے استعمال فرمایا۔ چونکہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر دین ہے، اس لیے اب وقت آچکا تھا کہ اس وقت کی معلوم دنیا کی عظیم ترین سلطنتوں اور ان کے جابر حکمرانوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دی جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس عظیم سفارتی مہم کا فیصلہ فرمایا تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! سلاطینِ عالم اس وقت تک کسی خط کو قبول نہیں کرتے جب تک اس پر مہر نہ لگی ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی (مہرِ نبوی) بنوائی، جس پر تین سطروں میں نیچے سے اوپر کی طرف "محمد رسول اللہ” کندہ تھا۔ یہ مہر اس تاریخی سفارتی پیش رفت کی دستاویزی اور قانونی حیثیت کی ضامن بنی۔
سفارتی وفود کی روانگی اور سفراء کا انتخاب
حضور اکرم ﷺ نے ملوک و سلاطین کے درباروں میں بھیجنے کے لیے ایسے صحابہ کرام کا انتخاب فرمایا جو نہایت دانا، فصیح اللسان، نڈر، اور متعلقہ علاقوں کے جغرافیے، زبان اور نفسیات سے واقف تھے۔ محرم 7 ہجری کے آغاز میں درج ذیل جلیل القدر صحابہ کو مختلف ممالک کی طرف روانہ کیا گیا:
- حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ: قیصرِ روم (ہرقل) کی طرف روانہ کیے گئے۔
- حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ: خسرو پرویز (کسریٰ فارس) کے دربار میں بھیجے گئے۔
- حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ: مقوقس (نائبِ سلطنتِ روم برائے مصر و اسکندریہ) کی طرف روانہ ہوئے۔
- حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ: شاہِ حبشہ (نجاشی اصحمہ) کے پاس بھیجے گئے۔
- حضرت سلیط بن عمرو عامری رضی اللہ عنہ: ہوذہ بن علی (حاکمِ یمامہ) کے پاس بھیجے گئے۔
- حضرت شجاع بن وہب اسدی رضی اللہ عنہ: حارث بن ابی شمر غسانی (حاکمِ دمشق) کی طرف روانہ ہوئے۔
درباروں کے احوال اور سفراء کی جرأت مندانہ گفتگو
ان سفراء نے قیصر و کسریٰ کی شان و شوکت سے مرعوب ہوئے بغیر انتہائی شجاعت اور بیباکی کے ساتھ پیغامِ حق پہنچایا۔ ہر دربار کا ردعمل مختلف اور تاریخی اہمیت کا حامل تھا:
1۔ قیصرِ روم (ہرقل): حضرت دحیہ کلبی نے یہ خط حمص یا بیت المقدس میں ہرقل کو پیش کیا۔ ہرقل نے خط ملنے پر تحقیق کے لیے مکہ کے تجارتی قافلے کے سربراہ ابو سفیان (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) کو طلب کیا۔ ابو سفیان اور ہرقل کے درمیان ہونے والا مکالمہ (جو صحیح بخاری میں مفصل درج ہے) اسلام کی صداقت کی ایک عظیم تاریخی گواہی بنا۔ ہرقل نے تسلیم کیا کہ محمد ﷺ واقعی سچے نبی ہیں، لیکن اپنی تاج و تخت کھو دینے کے خوف سے ایمان لانے سے محروم رہا۔ تاہم، اس نے سفیرِ اسلام کا بے حد احترام کیا۔
2۔ کسریٰ فارس (خسرو پرویز): جب حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی نے نامۂ مبارک پیش کیا، تو مغرور کسریٰ نے غصے میں آکر خط کو پھاڑ ڈالا کیونکہ اس میں رسول اللہ ﷺ کا اسمِ گرامی اس کے نام سے پہلے درج تھا۔ جب آپ ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے بددعا فرمائی: "مزّق اللہ مُلْکَہُ” (اللہ نے اس کی سلطنت کو پارہ پارہ کر دیا)۔ چنانچہ کچھ ہی عرصے بعد خسرو پرویز کو اس کے اپنے ہی بیٹے شیرویہ نے قتل کر دیا اور ساسانی سلطنت کا زوال شروع ہو گیا۔
3۔ مقوقسِ مصر: حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے مصر کے قبطی حکمران مقوقس کو خط پیش کیا۔ مقوقس نے خط کو چوما، انتہائی احترام کا مظاہرہ کیا اور اسے ہاتھی دانت کے ایک ڈبے میں محفوظ کر دیا۔ اس نے اسلام تو قبول نہ کیا لیکن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں قیمتی تحائف بھیجے، جن میں حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا (جو بعد میں ام المومنین بنیں) اور ایک سفید خچر ‘دلدل’ شامل تھے۔
4۔ نجاشی شاہِ حبشہ: حضرت عمرو بن امیہ ضمری جب شاہِ حبشہ کے پاس پہنچے تو نجاشی اصحمہ نے تخت سے اتر کر خطِ نبوی کو آنکھوں سے لگایا، تواضع اختیار کی اور جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اسلام قبول کر لیا۔ اس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں وفاداری کا جوابی خط بھی لکھا۔
سفارتی مشن کے تزویراتی اور سیاسی اثرات
ان خطوط کی روانگی نے بین الاقوامی سیاست میں مدینہ کی ریاست کو ایک ناگزیر اور مقتدر قوت کے طور پر متعارف کروایا۔ عرب جو پہلے آپس کی جنگوں میں الجھے ہوئے تھے، اب ایک عالمی دعوت کے علمبردار بن کر ابھرے۔ فارس کی سلطنت کا زوال تیز ہوا، جبکہ رومی سلطنت کے سرحدی قبائل میں اسلام کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ جب غسانی حکمران حارث بن ابی شمر نے دمشق کی طرف بھیجے گئے سفیر کو قتل کرنے کی دھمکی دی اور بعد میں ایک اور سفیر حضرت حارث بن عمیر ازدی کو شہید کیا گیا، تو یہی اقدام غزوۂ موتہ اور پھر غزوۂ تبوک کا پیش خیمہ بنا، جس نے بالآخر رومی سلطنت کے زوال اور شامات کی فتوحات کی راہ ہموار کی۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
ان خطوط میں رسول اللہ ﷺ نے خاص طور پر اہل کتاب کے نام خطوط میں سورہ آل عمران کی آیت 64 تحریر فرمائی، جو عقیدۂ توحید پر جمع ہونے کی عالمگیر دعوت ہے:
"قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا…” (کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں…)۔
یہ مہم ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام محض ایک علاقائی تحریک نہیں بلکہ قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اس سے سفارتی آداب، حکمتِ عملی، اور وقت کی سپر پاورز کے سامنے بغیر کسی خوف کے حق کی گواہی دینے کا بے مثال ایمانی سبق ملتا ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن اسحاق: السيرة النبوية (باب رسائل النبی ﷺ الی الملوک)
- ابن ہشام: السيرة النبوية (جلد 4، صلح حدیبیہ کے بعد کے واقعات)
- ابن کثیر: البداية والنهاية (جلد 4، کتاب السیرۃ)
- ابن سعد: الطبقات الکبریٰ (ذکر مكاتبات الرسول)
- صحیح البخاری: کتاب الجہاد والسیر، باب دعاء النبی ﷺ الی الاسلام۔
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورہ آل عمران (آیت 64)، سورہ سبا (آیت 28)، سورہ الفتح (آیت 28)
