غزواتِ کبریٰ

غزوہ وادی القریٰ (۷ ہجری)

« جمادی الآخرہ ۷ ہجری / ستمبر 628ء (فتحِ خیبر و فدک کے فوراً بعد) »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

غزوہ وادی القریٰ سنہ 7 ہجری میں غزوہ خیبر اور فتحِ فدک کے فوراً بعد پیش آیا۔ مدینہ منورہ کے شمال میں واقع وادی القریٰ ایک انتہائی زرخیز اور تزویراتی اہمیت کی حامل وادی تھی، جہاں یہود کے متعدد قلعے اور زرعی زمینیں تھیں۔ خیبر کے یہودیوں کی شکست اور فدک کی صلح کے بعد، وادی القریٰ کے یہودی اب بھی مدینہ منورہ کے خلاف سازشوں کا گڑھ بنے ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے قلعوں کو مضبوط کر کے جنگ کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جزیرہ نما عرب سے یہود کی عسکری قوت اور مدینہ پر منڈلاتے ہوئے بیرونی خطرات کا مستقل خاتمہ کرنے کے لیے اس وادی کی طرف پیش قدمی کا فیصلہ فرمایا تاکہ تجارتی شاہراہِ شام کو بھی مکمل طور پر مامون کیا جا سکے۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

رسول اللہ ﷺ اپنے 1400 جاں نثار مجاہدین اور 200 سواروں کے لشکر کے ساتھ، جو ابھی خیبر کی مہم سے فارغ ہوئے تھے، وادی القریٰ کی طرف روانہ ہوئے۔ لشکرِ اسلام نے رات کے وقت وادی میں پڑاؤ ڈالا۔ صبح طلوع ہوتے ہی حضورِ اکرم ﷺ نے عسکری صف بندی فرمائی۔ آپ ﷺ نے لشکرِ اسلام کا بڑا پرچم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا، جبکہ دیگر اہم جھنڈے حضرت حباب بن منذر، حضرت سہل بن حنیف اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہم کے سپرد کیے۔ دوسری طرف، یہود اپنے قلعوں میں محصور ہو کر دفاعی پوزیشن سنبھال چکے تھے اور انہوں نے مدینہ کے لشکر کا سامنا کرنے کے لیے اپنی صفیں درست کر لی تھیں۔

معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ

روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے یہود کو اسلام لانے اور پرامن طریقے سے اطاعت قبول کرنے کی دعوت دی اور واضح کیا کہ اگر وہ اطاعت قبول کر لیں تو ان کے جان و مال محفوظ رہیں گے۔ تاہم، یہود نے انتہائی تکبر کے ساتھ اس پیشکش کو مسترد کر دیا اور قلعے سے ان کا ایک نامور جنگجو مبارزت (انفرادی جنگ) کے لیے میدان میں نکلا۔ لشکرِ اسلام کی طرف سے حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ میدان میں نکلے اور چشم زدن میں اس یہودی سورما کو واصلِ جہنم کر دیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے گیارہ یہودی جنگجو میدان میں آئے، اور ہر بار صحابہ کرام نے اپنی بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں عبرت ناک شکست دی۔ جب ان کے تمام نامور بہادر مارے گئے، تو یہودیوں نے قلعوں سے تیر اندازی اور سنگ باری شروع کر دی۔ لشکرِ اسلام نے سخت جوابی حملہ کیا اور ان کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا، جس سے یہود کے حوصلے پست ہو گئے۔

شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات

اس معرکہ کے دوران رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت مِدعَم رضی اللہ عنہ لشکر کا کجاوہ درست کر رہے تھے کہ اچانک ایک نامعلوم سمت سے آنے والا تیر انہیں لگا اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ صحابہ کرام نے پکارا: "انہیں جنت مبارک ہو!” لیکن رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! خیبر کے مالِ غنیمت سے جو چادر انہوں نے تقسیم سے پہلے چوری کی تھی، وہ آگ بن کر ان پر جل رہی ہے۔” اس واقعے نے مسلمانوں کو امانت اور مالِ غنیمت کے قوانین کی سخت ترین پاسداری کا درس دیا۔ بالآخر، یہودیوں نے اپنی شکست یقینی دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور رحم کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے خیبر کی طرز پر صلح فرمائی، جس کے تحت زمینیں یہود کے پاس رہیں گی اور وہ نصف زرعی پیداوار اسلامی ریاست کو بطور جزیہ ادا کریں گے۔

قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق

غزوہ وادی القریٰ سے مسلمانوں کو گہرے ایمانی اور تزویراتی اسباق ملتے ہیں۔ یہ معرکہ ظاہر کرتا ہے کہ مادی اسباب کے ساتھ ساتھ ایمانی قوت اور امانت داری کس قدر اہم ہے۔ حضرت مدعم رضی اللہ عنہ کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد اور بیت المال (عوامی املاک) کی حفاظت کی اسلام میں کتنی سخت تاکید ہے۔ قرآن مجید میں اموالِ فئے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے جو احکامات سورۃ الحشر میں بیان ہوئے ہیں، ان کا عملی نفاذ اس معرکہ کی فتح کے بعد مدینہ کی معاشی خوشحالی کی صورت میں نظر آیا۔ وادی القریٰ کی فتح کے بعد حجاز کا پورا خطہ یہود کی سازشوں سے پاک ہو گیا اور اسلامی ریاست کی سرحدیں مزید مستحکم ہو گئیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن اسحاق (السيرة النبوية)
  • ابن ہشام (السيرة النبوية، باب غزوة وادي القرى)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 4)
  • ابن سعد (الطبقات الکبرى، ذکر مغازي رسول الله ﷺ)
  • الواقدي (کتاب المغازي)

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

سورۃ الحشر (اموالِ فئے کے احکام اور یہودیوں کی قلعہ بندیوں کا تذکرہ)

غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

غزوہ وادی القریٰ (۷ ہجری)

تاریخ و سن ہجری: جمادی الآخرہ ۷ ہجری / ستمبر 628ء (فتحِ خیبر و فدک کے فوراً بعد)
میدانِ جنگ: وادی القریٰ (مدینہ منورہ اور شام کے درمیان واقع ایک تجارتی اور زرعی وادی)
لشکرِ اسلام: تقریباً 1,400 پیادے اور 200 سوار (لشکرِ خیبر)
لشکرِ اعداء: وادی القریٰ کے یہودی جنگجو اور ان کے حلیف عرب قبائل (ہزاروں مسلح قلعہ بند یہودی)
نتیجہ: اسلامی لشکر کی شاندار تزویراتی فتح۔ یہودیوں کی غیر مشروط اطاعت اور اراضی کی نصف پیداوار پر صلح۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com