تاریخی پس منظر اور اسباب
غزوہ ذی قرد، جسے ‘غزوہ غابہ’ بھی کہا جاتا ہے، سیرتِ طیبہ کا ایک انتہائی اہم اور سبق آموز دفاعی معرکہ ہے۔ صلح حدیبیہ سے کچھ عرصہ قبل، مدینہ منورہ کے اطراف میں امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے کے لیے قبیلہ بنو غطفان کے ذیلی قبیلے بنو فزارہ کے سردار عیینہ بن حصن الفزاری کے بیٹے، عبدالرحمن بن عیینہ نے مدینہ کے چراگاہ ‘الغابہ’ پر اچانک شب خون مارا۔
رسول اللہ ﷺ کی دودھ دینے والی اونٹنیاں الغابہ کے مقام پر چر رہی تھیں، جن کی حفاظت پر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور ان کی زوجہ مامور تھے۔ غارت کاروں نے اچانک حملہ کر کے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو شہید کر دیا، ان کی اہلیہ کو قید کر لیا اور رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں ہانک کر لے گئے۔ یہ حملہ مدینہ کی خود مختاری پر براہِ راست حملہ تھا، جس کا فوری تدارک ناگزیر تھا۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
اس واقعے کی سب سے پہلی اطلاع حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کو ملی، جو مدینہ سے الغابہ کی طرف اپنے تیر و کمان اور گھوڑے کے ساتھ جا رہے تھے۔ انہوں نے جبلِ سلع پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے پکارا: ‘یا صباحاہ!’ (یہ عربوں میں اچانک حملے کی اطلاع دینے کا روایتی نعرہ تھا)۔ انہوں نے اکیلے ہی پیدل دشمن کے گھڑ سواروں کا تعاقب شروع کر دیا۔
مدینہ منورہ میں جب یہ آواز پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے فوری طور پر مدینہ میں منادی کروائی اور سوار صحابہ کا ایک ہراول دستہ تیار کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا، اور سوار صحابہ میں حضرت ابو قتادہ انصاری، حضرت اخرم اسدی (محرز بن نضلہ)، اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ رسول اللہ ﷺ خود بھی مہاجرین و انصار کے پانچ سو سے سات سو کے لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے اور مدینہ کا نظم حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمایا۔
معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ
یہ معرکہ بنیادی طور پر شجاعتِ انفرادی اور تیز رفتار تعاقب کی ایک بے نظیر مثال ہے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ، جو کہ ایک بہترین تیر انداز اور نہایت تیز دوڑنے والے (پیدل جنگجو) تھے، نے تن تنہا دشمن کے چالیس سواروں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔ وہ پہاڑی ٹیلوں پر چڑھ کر دشمن پر تیروں کی بارش کرتے اور یہ رجز پڑھتے تھے:
أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ / وَاليَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ
(میں اکوع کا بیٹا ہوں! اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے!)
حضرت سلمہؓ کے تیروں کی ہلاکت خیز بچھاڑ سے دشمن اس قدر خوفزدہ ہوا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی چوری شدہ اونٹنیاں چھوڑ دیں، بلکہ اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنی چادریں اور نیزے بھی پھینکنے لگے۔ جلد ہی مسلمانوں کا سوار دستہ بھی پہنچ گیا۔ سوار دستے کے جری کمانڈر حضرت اخرم اسدیؓ نے عبدالرحمن بن عیینہ پر حملہ کیا، لیکن دشمن نے انہیں شہید کر دیا۔ فوراً ہی حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر قاتل کو واصلِ جہنم کیا اور اس کی گھوڑی اپنے قبضے میں لے لی۔ دشمن خوف کے مارے ذی قرد کے چشمے کی طرف بھاگا جہاں وہ پانی پینا چاہتے تھے، لیکن حضرت سلمہؓ کی تیر اندازی نے انہیں وہاں بھی رکنے نہ دیا۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
اس معرکے میں مسلمانوں کے صرف ایک جلیل القدر صحابی حضرت محرز بن نضلہ (اخرم اسدی) رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، جبکہ اعدائے اسلام کے متعدد جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ جب لشکر کے ساتھ ذی قرد کے چشمے پر پہنچے تو دیکھا کہ دشمن سرپٹ بھاگ چکا ہے۔
اس غزوہ کے تزویراتی اثرات دور رس تھے:
- مدینہ منورہ کے گرد و نواح کے قبائل پر مسلمانوں کی تیز رفتار عسکری نقل و حرکت (Rapid Response) کی ہیبت بیٹھ گئی۔
- یہ واضح ہو گیا کہ مسلم ریاست اب اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ اچانک حملوں کا جواب چند گھنٹوں میں دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
- اس معرکے میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت اور رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں بحفاظت واپس لائی گئیں۔
- رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی بہادری کو سراہتے ہوئے فرمایا: ‘آج ہمارے بہترین پیادہ سلمہ بن اکوع ہیں اور بہترین سوار ابو قتادہ ہیں’ اور غنیمت میں سے انہیں پیادے اور سوار دونوں کا حصہ عطا فرمایا۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
اگرچہ اس معرکے کے بارے میں کوئی مخصوص سورت نازل نہیں ہوئی، تاہم یہ غزوہ قرآنی احکاماتِ جہاد، یعنی دشمن کے حملے کا بھرپور جواب دینے اور مظلوم کی داد رسی کرنے کی عملی تصویر ہے۔ اس سے یہ ایمانی سبق ملتا ہے کہ جب ایمان مضبوط ہو تو ایک پیادہ مومن بھی اللہ کی تائید سے دشمن کے بڑے لشکر پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ حضرت سلمہ بن اکوعؓ کا عزم، شجاعت اور توکل تاریخِ اسلام کا ایک روشن باب ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن اسحاق (السيرة النبوية)
- ابن ہشام (السيرة النبوية – جلد 2)
- امام البخاري (صحيح البخاري، كتاب المغازي، باب غزوة ذي قرد)
- امام مسلم (صحيح مسلم، كتاب الجهاد والسير، باب غزوة ذي قرد وغيرها)
- ابن کثیر (البداية والنهاية – جلد 4)
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ الانفال اور سورۃ الفتح کے عمومی دفاعی احکامات؛ صحیحین (بخاری و مسلم) کی مستند و مفصل روایات
غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
