تاریخی پس منظر اور اسباب
غزوہ ذات الرقاع اسلامی عسکری تاریخ کا ایک انتہائی اہم سنگِ میل ہے۔ غزوۂ احد کے بعد مدینہ منورہ کے گرد و نواح کے مشرک اور بدوی قبائل نے مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔ نجد کے سنگلاخ پہاڑوں میں آباد غطفان کی شاخوں (بنو محارب اور بنو ثعلبہ) نے مدینہ منورہ پر اچانک شب خون مارنے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی ناپاک سازش تیار کی۔ جب مخبروں کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو اس مہیب سازش کی اطلاع ملی، تو آپ ﷺ نے دشمن کو ان کے اپنے گھروں میں کچلنے کے لیے ایک پیشگی تزویراتی حملے (Preemptive Strike) کا فیصلہ فرمایا۔ اس غزوہ کو ‘ذات الرقاع’ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سفر انتہائی کٹھن اور پتھریلا تھا، صحابہ کرام کے پاؤں زخمی ہو گئے اور انہوں نے اپنے پاؤں پر کپڑوں کے چیتھڑے (رقاع) لپیٹے تھے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہاں کے ایک پہاڑ کا نام ‘ذات الرقاع’ تھا جس میں سرخ، سیاہ اور سفید رنگ کے پیوند نما پتھر تھے۔
لشکروں کی روانگی اور تزویراتی پیش قدمی
رسول اللہ ﷺ ربیع الاول یا جمادی الاول ۴ ہجری کو مدینہ منورہ کا انتظام حضرت ابوزر غفاری رضی اللہ عنہ (یا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ) کے سپرد فرما کر نجد کی جانب روانہ ہوئے۔ لشکرِ اسلام کی تعداد ۴۰۰ سے ۷۰۰ جاں نثاروں پر مشتمل تھی، جن کے پاس سواری کے لیے اونٹ اور گھوڑے انتہائی قلیل تعداد میں تھے۔ اس کٹھن اور دشوار گزار سفر میں صحابہ کرام کے پاؤں کے ناخن جھڑ گئے، مگر عزم و ہمت کی چوٹیاں مغلوب نہ ہوئیں۔ مجاہدینِ اسلام کی اس برق رفتار اور غیر متوقع پیش قدمی نے دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔ بنو غطفان کے قبائل جو مدینہ پر حملے کے خواب دیکھ رہے تھے، مسلمانوں کی جرات دیکھ کر حواس باختہ ہو گئے اور انہوں نے آمنے سامنے لڑنے کے بجائے قریبی پہاڑیوں پر پناہ لینے میں ہی عافیت سمجھی۔
معرکہ کے تفصیلی احوال اور ایمان افروز واقعات
مسلمانوں کا لشکر جب نخل کے مقام پر پہنچا تو دشمن وہاں سے فرار ہو چکا تھا، تاہم کچھ چوکسی دستے پہاڑوں پر نظر آ رہے تھے۔ چونکہ آمنے سامنے جنگ کی نوبت نہیں آئی، لیکن دونوں لشکر ایک دوسرے کے مدِ مقابل صف آرا کھڑے رہے۔ اسی نازک موڑ پر، جب دشمن کی طرف سے اچانک حملے کا شدید خطرہ موجود تھا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کی حفاظت اور جنگی حالت میں عبادت کی ادائیگی کے لیے ‘نمازِ خوف’ (Salat al-Khawf) کا حکم نازل فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو دو گروہوں میں تقسیم کر کے باری باری نماز پڑھائی، جس سے دشمن پر مسلمانوں کے غیر متزلزل ایمان اور عسکری نظم و ضبط کا ایسا رعب بیٹھا کہ وہ حملہ کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔
اس غزوے کے دوران کئی ایمان افروز واقعات رونما ہوئے جن میں سے دو انتہائی مشہور ہیں:
- غورث بن الحارث کا واقعہ: دورانِ سفر جب رسول اللہ ﷺ ایک درخت کے سائے تلے اکیلے آرام فرما رہے تھے اور آپ ﷺ کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی، غورث بن الحارث نامی ایک کٹر کافر خاموشی سے آیا، تلوار سونت لی اور بولا: ‘اے محمد! آج آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟’ آپ ﷺ نے انتہائی اطمینان اور توکل کے ساتھ فرمایا: ‘اللہ!’۔ یہ سنتے ہی اس پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ آپ ﷺ نے تلوار اٹھائی اور فرمایا: ‘اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟’ وہ تائب ہو گیا اور اسلام قبول کر لیا۔
- حضرت عباد بن بشر کی فدا کاری: رات کے وقت لشکر کی حفاظت پر مامور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نماز میں مشغول تھے کہ ایک مشرک نے ان پر یکے بعد دیگرے تین تیر چلائے۔ عباد بن بشر نے نماز نہیں توڑی اور سجدے کا لطف لیتے رہے، یہاں تک کہ خون بہنے لگا۔ نماز مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے ساتھی حضرت عمار بن یاسر کو جگایا۔ عمار نے خون دیکھ کر کہا کہ مجھے پہلے کیوں نہ جگایا؟ تو عباد نے تاریخی جواب دیا: ‘میں نماز میں ایک ایسی سورت (سورہ کہف) پڑھ رہا تھا جسے بیچ میں سے کاٹنا مجھے پسند نہ آیا۔’
تزویراتی نتائج اور سیاسی اثرات
اگرچہ اس غزوے میں کوئی باقاعدہ جنگ نہیں ہوئی، لیکن تزویراتی لحاظ سے یہ مسلمانوں کے لیے ایک زبردست فتح ثابت ہوئی۔ نجد کے اوباش قبائل جو مسلمانوں کے خلاف مسلسل سازشیں کر رہے تھے، ان کا غرور خاک میں مل گیا۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ مسلمان اب اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے دفاع کے لیے مدینہ سے سینکڑوں میل دور آ کر بھی دشمن کو کچل سکتے ہیں۔ اس غزوے کے بعد شمال اور مشرقی سرحدیں طویل عرصے کے لیے پرامن ہو گئیں اور مدینہ کے مسلمانوں کو دعوت و تبلیغ کے کاموں کے لیے یکسوئی حاصل ہوئی۔ نمازِ خوف کی مشروعیت نے ثابت کر دیا کہ اسلام میں عسکری تادیب اور روحانی تطہیر دونوں لازم و ملزوم ہیں۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
اس غزوے کی تائید میں قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں۔ سورہ النساء کی آیت ۱۰۲ میں نمازِ خوف کے احکامات نازل ہوئے جو عسکری حکمتِ عملی اور عبادت کے حسین امتزاج کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ مزید برآں، مفسرین کے مطابق سورہ المائدہ کی آیت ۱۱: ‘اے ایمان والو! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا، جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کا ارادہ کیا تو اللہ نے ان کے ہاتھ تم تک پہنچنے سے روک دیے’، اسی غزوے کے بعض واقعات (جیسے غورث بن الحارث کا واقعہ) کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس معرکے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مادی وسائل کی کمی کے باوجود اگر دلوں میں سچا ایمان، باہمی اتحاد اور اللہ کی ذات پر کامل توکل ہو، تو اللہ کی نصرت لازماً نازل ہوتی ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن اسحاق (السيرة النبوية – باب غزوة ذات الرقاع)
- ابن ہشام (السيرة النبوية، جلد ۲، صفحہ ۱۹۳)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد ۴، غزوۂ ذات الرقاع)
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، تذکرہ غزواتِ رسول اللہ ﷺ)
- صحیح البخاری (کتاب المغازی، باب غزوة ذات الرقاع)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورہ النساء آیت ۱۰۲ (جس میں نمازِ خوف کا طریقہ نازل ہوا) اور سورہ المائدہ آیت ۱۱ (دشمن کے ارادے کو ناکام بنانے کا ذکر)
غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
