تاریخی پس منظر اور اسباب
معرکہ قادسیہ کی تاریخ ساز فتح کے بعد، ساسانی سلطنت کی کمر ٹوٹ چکی تھی لیکن ان کا دار الحکومت ‘مدائن’ (Ctesiphon) ابھی تک کفر و شرک کا گڑھ اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلامی لشکر کے سپہ سالار سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو مدائن پر پیش قدمی کا حکم دیا۔ مدائن دو حصوں پر مشتمل تھا، ایک مغربی مدائن (بہورسیر) اور دوسرا مشرقی مدائن جہاں شاہِ فارس کا محل ‘قصرِ ابیض’ واقع تھا۔ مسلمانوں نے پہلے مغربی حصے کا محاصرہ کیا اور ایرانی فوج کو وہاں سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اب مسلمانوں اور شاہی محل کے درمیان بپھرا ہوا دریائے دجلہ حائل تھا، جس کے پل ایرانیوں نے پہلے ہی تباہ کر دیے تھے۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے دجلہ کے کنارے پہنچ کر لشکرِ اسلام کو منظم کیا۔ دریائے دجلہ اس وقت بپھرا ہوا تھا اور اس کی طوفانی موجیں خوفناک منظر پیش کر رہی تھیں۔ ایرانیوں کا خیال تھا کہ مسلمان اس گہرے اور تیز رفتار دریا کو کبھی عبور نہیں کر سکیں گے اور وہ دوسری طرف محفوظ ہیں۔ لیکن ایمان باللہ اور عزمِ صمیم سے سرشار مجاہدین کے لیے یہ دریا بھی کوئی رکاوٹ ثابت نہ ہوا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص نے لشکر کے سامنے خطبہ دیا اور عزم کی شمع روشن کی۔ سیدنا عاصم بن عمرو اور سیدنا قعقاع بن عمرو کی قیادت میں ایک جری دستہ (کتیبۃ الاھوال) نے سب سے پہلے اپنے گھوڑے دریا میں ڈال دیے، جس کے بعد پورا اسلامی لشکر اپنے گھوڑوں سمیت دجلہ میں اتر گیا۔
معرکہ کے تفصیلی احوال اور شجاعتِ صحابہ
تاریخِ انسانی نے ایسا ایمان افروز منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا جب پورا لشکرِ اسلام بپھرے ہوئے دریا کی لہروں پر اس طرح چل رہا تھا جیسے زمین پر سفر کر رہا ہو۔ ایرانی فوج نے جب دریا کے دوسرے کنارے سے تیر اندازی کی، تو مجاہدین نے اپنی شجاعت اور جنگی حکمتِ عملی سے ان کے حملوں کو ناکام بنا دیا اور کنارے پر پہنچ کر ساسانی فوج پر ٹوٹ پڑے۔ ایرانیوں پر ایسا رعب اور ہیبت طاری ہوئی کہ وہ ‘دیوان دیوان’ (یعنی یہ انسان نہیں، جنات ہیں!) چلاتے ہوئے میدانِ جنگ سے فرار ہو گئے۔ شاہِ فارس یزدگرد سوم اپنے خاندان اور شاہی خزانوں کا بڑا حصہ لے کر پہلے ہی حلوان کی طرف بھاگ چکا تھا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فاتحانہ انداز میں مدائن کے سفید محل (قصرِ ابیض) میں داخل ہوئے۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
اس عظیم معرکے اور دجلہ عبور کرنے کے کٹھن مرحلے میں سلف صالحین کی روایات کے مطابق لشکرِ اسلام کا کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا، اور صرف ایک مجاہد دریا میں بہہ جانے سے بال بال بچے جنہیں بچا لیا گیا۔ فتحِ مدائن کے تزویراتی اثرات انتہائی دور رس تھے۔ صدیوں پرانی ساسانی سلطنت کا مرکز ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے زیرِ نگیں آ گیا۔ قیصر و کسریٰ کی شان و شوکت خاک میں مل گئی اور قصرِ ابیض میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نمازِ شکرانہ ادا کی اور سورۃ الدخان کی آیات تلاوت فرمائیں۔ ساسانی سلطنت کے بے پناہ خزاین، کسریٰ کا تاج، اس کا تاریخی قالین (بہارِ کسریٰ) اور دیگر قیمتی اشیاء مدینہ منورہ روانہ کی گئیں، جنہیں دیکھ کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ رو پڑے اور صحابہ کی امانت و دیانت پر رشک کیا۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
فتحِ مدائن دراصل رسول اللہ ﷺ کی ان پیشگوئیوں کا ظہور تھا جو آپ نے غزوہ خندق کے موقع پر چٹان پر ضرب لگاتے ہوئے فرمائی تھیں کہ ‘مجھے کسریٰ کے سفید محل کی چابی دی گئی ہے’۔ قرآنِ مجید کی سورہ الدخان کی یہ آیات اس موقع پر صادق آتی ہیں: ‘کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ، وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ کَرِیْمٍ’ (وہ کتنے ہی باغ، چشمے، کھیتیاں اور عالی شان ٹھکانے چھوڑ گئے)۔ یہ معرکہ امتِ مسلمہ کو یہ سبق دیتا ہے کہ مادی اسباب کے ساتھ ساتھ جب پختہ ایمان اور توکل علی اللہ شاملِ حال ہو، تو کفر کی بڑی سے بڑی طاقت اور قدرتی رکاوٹیں بھی ہوا ہو جاتی ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن جریر الطبری (تاریخ الامم والملوک، جلد ۴، حالاتِ فتحِ مدائن)
- ابن کثیر (البدایہ والنہایہ، جلد ۷، ذکرِ عبورِ دجلہ و فتحِ مدائن)
- ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ، جلد ۲)
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، تذکرہ سیدنا سعد بن ابی وقاص)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ الدخان (آیات ۲۵ تا ۲۸) اور احادیثِ نبویہ میں دارِ کسریٰ کے سقوط کی پیشگوئیاں۔
