معارکِ فاصلہ و فتوحاتِ اسلام

فتح جزیرہ کریٹ / اقریطش

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

{
"arabic_name”: "فتح جزيرة أقريطش (كريت) الإسلامية”,
"battle_date_hijri”: "212 ہجری / 827ء (ابتدائی بحری مہمات: 54 ہجری / 674ء عہدِ بنو امیہ)”,
"battle_location”: "جزیرہ کریٹ (اقریطش)، بحیرہ روم (میڈیٹیرینین سی)”,
"battle_muslim_forces”: "تقریباً 40 بحری جہاز، 10,000 سے زائد مجاہدین و مہاجرین (اندلسی مہم جو)”,
"battle_enemy_forces”: "بازنطینی (رومی) سلطنت کی مقامی فوج، دفاعی قلعہ بندیاں اور شاہی بحری بیڑہ”,
"battle_commanders”: "قائدِ لشکرِ اسلام: امیر ابو حفص عمر بن عیسیٰ الاندلسی البلوطی | رومی کمانڈر: جنرل فوٹینیوس اور جنرل ڈیمیان”,
"battle_martyrs”: "مختلف معرکوں اور قلعہ بندیوں کے محاصرے میں سینکڑوں مسلمان مجاہدین شہید ہوئے”,
"battle_enemy_casualties”: "رومی فوج کا بڑا جانی نقصان، متعدد جنگی جہاز تباہ اور بازنطینی کمانڈرز کی ہلاکت”،
"battle_outcome”: "مسلمانوں کی فیصلہ کن اور شاندار فتح۔ جزیرہ کریٹ پر خود مختار اسلامی امارت (Emirate of Crete) کا قیام عمل میں آیا جو تقریباً 135 سال تک قائم رہی۔”,
"battle_quran_ref”: "سورۃ الحج (آیات 39-40) اور سورۃ الفتح کی نصرت و جہاد سے متعلق عمومی آیات”,
"html_content”: "

تاریخی پس منظر اور اسباب

جزیرہ کریٹ (جسے عربی مورخین اقریطش کہتے ہیں) بحیرہ روم میں تزویراتی (Strategic) لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل جزیرہ ہے۔ عہدِ رسالت اور خلافتِ راشدہ کے بعد، بنو امیہ کے دورِ حکومت میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد (54 ہجری) میں جنادہ بن ابی امیہ کی قیادت میں جزیرے پر پہلا حملہ کیا گیا، لیکن مستحکم اسلامی حکومت قائم نہ ہو سکی۔ کریٹ کی مستقل اور حتمی فتح کا واقعہ عباسی دورِ خلافت میں پیش آیا۔ اندلس (اسپین) کے دارالحکومت قرطبہ میں امیر الحکم اول کے خلاف ایک عوامی بغاوت ہوئی جسے ‘وقعۃ الربض’ (ربض کا واقعہ) کہا جاتا ہے۔ اس بغاوت کے کچلے جانے کے بعد ہزاروں اندلسی مسلمانوں کو جلاوطن کر دیا گیا۔ ان اندلسی مہاجرین کا ایک بڑا گروہ ابو حفص عمر بن عیسیٰ البلوطی کی قیادت میں مصر پہنچا۔ اس وقت مصر عباسی خلافت کے زیرِ اثر تھا لیکن وہاں داخلی انتشار تھا۔ اندلسیوں نے اس نازک صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اسکندریہ پر قبضہ کر لیا، تاہم بعد میں عباسی جنرل عبداللہ بن طاہر نے ان سے مذاکرات کیے اور انہیں پرامن طور پر مصر چھوڑنے اور بحیرہ روم میں بازنطینی سلطنت کے زیرِ اثر جزیرہ کریٹ پر حملہ کرنے کی ترغیب دی۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

امیر ابو حفص عمر الاندلسی نے اپنے جانباز ساتھیوں کو مجتمع کیا اور تقریباً 40 بحری جہازوں پر مشتمل ایک بیڑے کے ساتھ کریٹ کی جانب پیش قدمی کی۔ 212 ہجری (827ء) میں یہ بحری لشکر کریٹ کے ساحل پر اترا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ ساحل پر اترتے ہی امیر ابو حفص نے ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ کیا اور اپنے تمام بحری جہازوں کو آگ لگانے کا حکم دے دیا۔ جب مجاہدین نے اس پر حیرت کا اظہار کیا تو امیر ابو حفص نے تاریخی جملہ کہا: ‘میں نے جہاز اس لیے جلائے ہیں تاکہ تمہارے ذہنوں سے واپسی کا خیال نکل جائے۔ اب تمہارے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں، یا تو اس جزیرے کو فتح کر کے یہاں اپنی زندگی اور سلطنت قائم کرو یا پھر جامِ شہادت نوش کرو۔’ اس تزویراتی اقدام نے مجاہدین میں بے پناہ جوش و جذبہ پیدا کر دیا اور وہ رومیوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔

معرکہ کے تفصیلی احوال اور مجاہدین کی شجاعت

مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر بازنطینی (رومی) شہنشاہ مائیکل دوم شدید غضبناک ہوا۔ اس نے فوراً کریٹ کے رومی گورنر اور شاہی کمانڈر فوٹینیوس (Photeinos) کو ایک بھاری لشکر کے ساتھ مسلمانوں کا راستہ روکنے کے لیے بھیجا۔ مسلمانوں اور رومی افواج کے درمیان شدید معرکے شروع ہوئے۔ اندلسی مجاہدین نے اپنی عسکری مہارت، بے پناہ شجاعت اور جدید جنگی چالوں کے ذریعے رومیوں کے پے در پے حملوں کو ناکام بنا دیا۔ امیر ابو حفص نے دشمن کی صفوں کو درہم برہم کرتے ہوئے رومی فوج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ رومی جنرل فوٹینیوس شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہوا، جبکہ اس کے دوسرے نائب جنرل ڈیمیان کو مسلمانوں نے مار گرایا۔ اس عبرتناک شکست کے بعد رومی دفاعی حصار ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ مسلمانوں نے جزیرے کے مرکز میں ایک گہری خندق کھود کر اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا، جسے بعد میں ‘ربض الخندق’ (موجودہ کینڈی/ہرقلیون) کا نام دیا گیا اور یہی شہر اس نئی اسلامی ریاست کا دارالحکومت بنا۔

شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات

اس عظیم معرکے میں سینکڑوں نامور اندلسی مجاہدین نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان شہداء کی قربانیوں کے نتیجے میں کریٹ پر مسلمانوں کا مکمل کنٹرول قائم ہو گیا۔ کریٹ کی فتح بحیرہ روم کی تاریخ کا ایک اہم ترین موڑ ثابت ہوئی۔ اس فتح کے بعد بحیرہ روم میں بازنطینی بحری بالادستی کا خاتمہ ہو گیا اور مسلمانوں کو ایک ایسا مضبوط بحری مرکز مل گیا جہاں سے وہ قسطنطنیہ اور جنوبی یورپ پر بحری دباؤ ڈال سکتے تھے۔ امیر ابو حفص نے کریٹ میں ایک آزاد اور خود مختار اسلامی امارت (Emirate of Crete) قائم کی، جس نے عباسی خلافت کے ساتھ گہرے مراسم رکھے اور خطے میں اسلام کی ترویج و اشاعت کا کام کیا۔ یہ امارت 961ء تک (تقریباً 135 سال) شان و شوکت کے ساتھ قائم رہی، یہاں تک کہ بازنطینی جنرل نیکی فوراس فوکاس نے ایک بہت بڑے بحری حملے کے ذریعے اس جزیرے پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔

ایمانی اسباق اور عسکری حکمتِ عملی

معرکہِ کریٹ ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ ایمان کی طاقت، پختہ عزم اور اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی کے سامنے مادی وسائل کی کمی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اندلسی مسلمانوں نے جلاوطنی اور بے سروسامانی کی حالت میں بھی ہمت نہیں ہاری اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے ایک نئے جزیرے کو اپنا مسکن بنایا اور وہاں عدل و انصاف پر مبنی اسلامی نظام نافذ کیا۔ جہازوں کو جلانے کا واقعہ عزمِ صمیم اور پیچھے نہ ہٹنے کے اسلامی جذبے کی عکاسی کرتا ہے، جس نے بزدلی کے تمام راستے مسدود کر کے مجاہدین کو غازی اور شہید بنا دیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ)
  • الطبری (تاریخ الرسل والملوک)
  • البلاذری (فتوح البلدان)
  • ابن خلدون (تاریخ ابن خلدون، جلد چہارم)
  • یاقوت الحموی (معجم البلدان – مادہ اقریطش)
  • الحمیری (الروض المعطار فی خبر الاقطار)

”
}

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

فتح جزیرہ کریٹ / اقریطش

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com