تاریخی پس منظر اور اسباب
اندلس کی سرزمین پر اسلام کے قدم جمنے کی تاریخ معرکہ شذونہ (وادئ لکہ) میں طارق بن زیاد کی تاریخی کامیابی سے شروع ہوتی ہے۔ راڈرک کی عظیم الشان فوج کو شکست دینے کے بعد، فاتحِ اندلس طارق بن زیاد نے دور اندیشی اور غیر معمولی فوجی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پورے جزیرہ نما کو تیزی سے فتح کرنے کے لیے اپنے لشکر کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس تزویراتی منصوبے کے تحت، طارق بن زیاد نے اپنے نامور جرنیل مغیث الرومی کو محض سات سو (700) سواروں کا جری دستہ دے کر قرطبہ (Cordoba) کی طرف روانہ کیا، جو اس وقت جزیرہ نما کا ایک نہایت اہم اور مضبوط ترین شہر مانا جاتا تھا۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
مغیث الرومی اپنے جانثاروں کے ساتھ بجلی کی تیزی سے قرطبہ کی جانب بڑھے۔ قرطبہ کے گرد ایک انتہائی مضبوط فصیل تھی اور شہر کے شمال میں دریاۓ وادی الکبیر (Guadalquivir) بہتا تھا، جو شہر کی قدرتی حفاظت کا کام دیتا تھا۔ جب اسلامی دستہ شہر کے قریب پہنچا، تو انہوں نے دیکھا کہ فصیلِ شہر انتہائی بلند اور ناقابلِ تسخیر معلوم ہوتی ہے۔ مغیث الرومی نے شہر کے باہر ایک جنگل (شاہ بلوط کے باغات) میں پڑاؤ ڈالا تاکہ دشمن کو ان کی اصل تعداد کا اندازہ نہ ہو سکے اور رات کی تاریکی کا انتظار کیا جائے، کیونکہ براہِ راست حملہ اتنی کم تعداد کے ساتھ خودکشی کے مترادف تھا۔
معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ مجاہدین
فاتح قرطبہ مغیث الرومی نے رات کی تاریکی میں شہر کی فصیل کی جاسوسی شروع کی۔ اس دوران انہیں ایک چرواہا ملا جس نے انہیں بتایا کہ فصیل میں ایک جگہ شگاف موجود ہے جہاں سے اندر داخل ہوا جا سکتا ہے، لیکن وہاں تک پہنچنا دشوار تھا۔ اسی اثناء میں رات کے وقت شدید بارش شروع ہو گئی جس نے مجاہدین کے لیے غیبی مدد کا کام کیا۔ بارش اور سردی کی وجہ سے گوتھک محافظ اپنی چوکیاں چھوڑ کر پناہ گاہوں میں چلے گئے۔
مغیث الرومی نے اس سنہری موقع کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے وادی الکبیر کو تیر کر پار کیا اور اس شگاف کے پاس پہنچے۔ وہاں ایک بڑا درخت (انجیر کا درخت) فصیل کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ ایک بہادر مجاہد نے درخت پر چڑھ کر فصیل پر کمند ڈالی اور اوپر چڑھ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چند مجاہدین فصیل پر پہنچ گئے اور انہوں نے وہاں موجود غافل سنتریوں کو قابو کر لیا۔ مجاہدین نے نیچے اتر کر ‘باب القنطرہ’ (پل کا دروازہ) کھول دیا اور نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے۔ گوتھک گورنر اپنے محافظوں کے ساتھ بھاگ کر ‘سینٹ جارج’ نامی ایک مضبوط گرجا گھر میں محصور ہو گیا، جہاں انہوں نے تین ماہ تک مزاحمت کی، لیکن بالآخر مجاہدین نے اس آخری گڑھ کو بھی مسخر کر لیا اور حاکمِ قرطبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
اس معرکے میں مسلمانوں کا جانی نقصان انتہائی معمولی رہا، جبکہ دشمن کا غرور خاک میں مل گیا۔ قرطبہ کی فتح نے اندلس میں مسلمانوں کی پوزیشن کو بے حد مضبوط کر دیا۔ مغیث الرومی نے شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہاں کے عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ بے مثال عدل و انصاف کا معاملہ کیا۔ انہوں نے شہر کا انتظام عیسائیوں اور یہودیوں کی ایک مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا اور خود اگلے مہمات کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہ فتح اتنی تزویراتی اہمیت کی حامل تھی کہ بعد میں بنو امیہ کے امیر عبدالرحمن الداخل نے اسی شہر قرطبہ کو اپنی عظیم الشان سلطنت کا دار الخلافہ بنایا، جو صدیوں تک دنیا میں علم و ہنر اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنا رہا۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
معرکہ قرطبہ ایمان، عزمِ مصمم اور تزویراتی جنگی حکمتِ عملی کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ معرکہ قرآنی ارشاد ربانی ‘كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة بإذن الله’ (کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئیں) کی زندہ مثال ہے۔ مجاہدینِ اسلام نے مادی وسائل کی کمی کے باوجود محض توکل علی اللہ اور شجاعت کے بل بوتے پر ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ سر کیا۔ اس فتح سے یہ سبق ملتا ہے کہ کامیابی مادی وسائل سے زیادہ جذبۂ ایمانی، چوکسی اور موزوں وقت پر درست فیصلے کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن عذاری المراکشی (البيان المغرب في اختصار أخبار ملوك الأندلس والمغرب)
- احمد بن محمد المقری (نفح الطيب من غصن الأندلس الرطيب)
- ابن الاثیر الجزری (الكامل في التاريخ)
- ابن خلدون (ديوان المبتدأ والخبر في تاريخ العرب والبربر)
- شمس الدین الذہبی (تاریخ الاسلام ووفیات المشاہیر والاعلام)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ البقرہ، آیت ۲۴۹ (كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ)
