تاریخی پس منظر اور اسباب
بیعتِ عقبہ ثانیہ تاریخِ اسلام کا وہ اہم ترین سنگِ میل ہے جس نے کفر و ایمان کے معرکے کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ بیعتِ عقبہ اولیٰ (۱۲ نبوی) کے بعد، رسول اللہ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ (یثرب) کا سفیر بنا کر بھیجا۔ ان کی شبانہ روز تبلیغ اور حکمتِ عملی کے نتیجے میں مدینہ کا کوئی ایسا گھرانہ نہیں بچا تھا جہاں اسلام کی روشنی نہ پہنچی ہو۔ انصارِ مدینہ نے محسوس کیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کی تپتی ہوئی وادی میں قریش کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں، لہٰذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو مدینہ ہجرت کی دعوت دی جائے اور جان و مال کی بازی لگا کر آپ ﷺ کی حفاظت کی ذمہ داری لی جائے۔ اسی تڑپ کے تحت ذی الحجہ ۱۳ نبوی کو مدینہ کے مسلمانوں نے حج کے موقع پر مکہ مکرمہ جانے والے مشرک قافلے کے ساتھ مل کر مکہ کا سفر کیا تاکہ رسول اللہ ﷺ سے خفیہ ملاقات کی جا سکے۔
خفیہ ملاقات کی منصوبہ بندی اور وفد کی آمد
مدینہ کے انصار کا یہ وفد مکہ پہنچا تو قریشِ مکہ کے خوف سے اس پورے منصوبے کو انتہائی صیغہ راز میں رکھا گیا۔ ملاقات کے لیے ایامِ تشریق کی درمیانی رات (۱۲ ذی الحجہ) کا انتخاب کیا گیا، اور مقامِ ملاقات منیٰ کی وہ دور دراز گھاٹی تھی جسے ‘عقبہ’ کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ رات کے پچھلے پہر جب سب سو جائیں، تو ایک ایک دو دو کر کے انتہائی خاموشی سے گھاٹی میں پہنچیں۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہم اپنے بستروں سے اس طرح دبے پاؤں نکلے جیسے گھونسلوں سے چڑیاں اڑتی ہیں، یہاں تک کہ ۷۳ مرد اور ۲ خواتین (حضرت ام عمارہ نسیبہ بنت کعب اور حضرت ام منیع اسماء بنت عمرو رضی اللہ عنہما) اس گھاٹی میں جمع ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ آپ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب بھی تشریف لائے، جو اس وقت تک اگرچہ ظاہری طور پر ایمان نہیں لائے تھے، لیکن اپنے بھتیجے کی حفاظت اور خاندانی حمیت کی بنا پر اس اہم ترین خفیہ معاہدے کے گواہ بننا چاہتے تھے۔
عہد و پیمان اور عباس بن عبد المطلب کا تاریخی خطاب
ملاقات کا آغاز رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب کے ایک انتہائی مدبرانہ اور دور اندیش خطاب سے ہوا۔ انہوں نے انصارِ مدینہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ‘اے خزرج کے لوگو! محمد (ﷺ) اپنے خاندان اور قوم میں نہایت معزز اور محفوظ ہیں۔ لیکن اب یہ تمہارے پاس ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر تم ان سے کیے گئے عہد کو پورا کر سکتے ہو اور دشمنوں کے مقابلے میں ان کا بھرپور ساتھ دے سکتے ہو، تو یہ سودا کرو۔ ورنہ ابھی سے انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو۔’ اس پر انصارِ مدینہ کے ترجمان، حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: ‘اللہ کی قسم! اگر ہمارے دلوں میں کوئی کھوٹ ہوتا تو ہم کہہ دیتے۔ لیکن ہم صدقِ دل سے وفاداری کا عہد کرنے آئے ہیں۔ ہم اپنے خون سے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کریں گے۔’ اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی شرائط پیش کرنے کی درخواست کی۔
بیعت کے تفصیلی احوال اور بارہ نقباء کا تقرر
رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید کی تلاوت فرمائی، اللہ کی طرف دعوت دی اور انصارِ مدینہ سے درج ذیل پانچ بنیادی امور پر عسکری اور تزویراتی بیعت لی:
۱۔ تنگی اور آسانی، ہر حال میں اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرنا۔
۲۔ خوشحالی اور تنگدستی، ہر حال میں راہِ خدا میں مال خرچ کرنا۔
۳۔ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
۴۔ اللہ کی راہ میں کھڑے ہونا اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرنا۔
۵۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائیں تو ان کی اس طرح حفاظت کرنا جس طرح تم اپنی جانوں، بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو۔
جب بیعت کا وقت آیا تو حضرت ابوالہیثم بن تیہان اور حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہما نے انصار کو یاد دلایا کہ ‘یہ بیعت عرب و عجم سے دشمنی اور تلوار کا سودا ہے، کیا تم اس پر قائم رہو گے؟’ تو تمام انصار نے یک زبان ہو کر پکارا: ‘ہم اپنے اموال کی تباہی اور اشراف کے قتل کی پروا نہ کرتے ہوئے یہ بیعت کرتے ہیں!’ بیعت مکمل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے انصار میں سے بارہ (۱۲) نقباء (نمائندے) منتخب کیے (۹ خزرج سے اور ۳ اوس سے) جو اپنے اپنے قبیلے کے نظم و ضبط اور اسلامی امور کے ذمہ دار قرار پائے۔ ان نقباء کے سربراہ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے۔
تزویراتی اور سیاسی اثرات (اسلامی تاریخ کا نیا موڑ)
بیعتِ عقبہ ثانیہ محض ایک مذہبی بیعت نہیں تھی، بلکہ یہ تاریخِ اسلام کا پہلا باقاعدہ عسکری اور سیاسی معاہدہ تھا جس نے پہلی بار مسلمانوں کو ایک جغرافیائی پناہ گاہ اور طاقتور دفاعی نظام فراہم کیا۔ اس بیعت کے فوراً بعد شیطان نے گھاٹی کے اوپر سے چیخ کر قریش کو اس خفیہ معاہدے کی اطلاع دے دی، لیکن اس وقت تک وقت گزر چکا تھا۔ اس بیعت نے ہجرتِ مدینہ کی راہ ہموار کی، جہاں پہنچ کر رسول اللہ ﷺ نے دنیا کی پہلی اسلامی فلاحی اور عسکری ریاست کی بنیاد رکھی۔ اگر بیعتِ عقبہ ثانیہ کے تحت انصارِ مدینہ دفاعِ رسالت کا یہ عظیم ترین معاہدہ نہ کرتے، تو نہ ہجرت ممکن ہوتی اور نہ ہی غزوہ بدر، احد اور فتحِ مکہ جیسے عظیم معرکے وقوع پذیر ہوتے۔ یہ انصار کی قربانی ہی تھی جس نے کفر کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روک کر مدینہ کو اسلام کا ناقابلِ تسخیر قلعہ بنا دیا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن اسحاق، السيرة النبوية (کتاب المغازی والسیئر)
- ابن ہشام، السيرة النبوية (جلد اول، باب بیعة العقبہ الثانیہ)
- ابن کثیر، البداية والنهاية (جلد سوم، ذکرِ بیعة العقبہ الکبریٰ)
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ (جلد اول، ذکر وفد الانصار)
- حافظ ابن حجر عسقلانی، فتح الباري شرح صحيح البخاري (کتاب المناقب)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ التوبہ (آیت ۱۱۱)، سورۃ الفتح (آیت ۱۰)، اور سورۃ الممتحنہ (آیت ۱۲)
