{
"arabic_name”: "بيعة العقبة الأولى (بيعة النساء)”,
"battle_date_hijri”: "ذوالحجہ ۱۲ نبوی (جولائی ۶۲۱ء)”,
"battle_location”: "جمرہ عقبہ، منیٰ (مکہ مکرمہ کے قریب)”,
"battle_muslim_forces”: "۱۲ جلیل القدر انصار صحابہ (۱۰ خزرج اور ۲ اوس سے)”,
"battle_enemy_forces”: "قابلِ اطلاق نہیں (یہ ایک خفیہ سیاسی و دفاعی معاہدہ تھا)”,
"battle_commanders”: "قائدِ اعظم: سید الانبیاء والمرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ | سربراہِ انصار وفد: حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ”,
"battle_martyrs”: "کوئی نہیں”,
"battle_enemy_casualties”: "کوئی نہیں”,
"battle_outcome”: "مدینہ منورہ میں اسلام کی پہلی نظریاتی چھاؤنی کا قیام، رسول اللہ ﷺ کے پہلے سفیر حضرت مصعب بن عمیرؓ کی روانگی اور بیعتِ عقبہ ثانیہ کی راہ ہموار ہونا۔”,
"battle_quran_ref”: "سورۃ الممتحنہ، آیت ۱۲ (شروطِ بیعت کے حوالے سے اس آیت کا تذکرہ ملتا ہے)”,
"html_content”: "
تاریخی پس منظر اور اسباب
اعلانِ نبوت کے بعد قریشِ مکہ کی مخالفت اور مظالم کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا تھا۔ رسول اللہ ﷺ حج کے ایام میں مکہ کے گرد و نواح میں آنے والے قبائل کو دعوتِ اسلام پیش کرتے تھے۔ ۱۱ نبوی (۶۲۰ء) میں حج کے موقع پر مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج کے چھ خوش نصیب افراد نے عقبہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا اور اسلام قبول کیا۔ ان حضرات نے مدینہ منورہ واپس جا کر اپنے قبائل میں اسلام کی اشاعت کا کام شروع کیا۔ اس کے نتیجے میں مدینہ میں اسلام کا چرچا ہوا اور انصار نے باقاعدہ منظم ہو کر اگلے سال مکہ آنے کا فیصلہ کیا تاکہ نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کر سکیں۔
بیعت کے شرکاء اور انصارِ مدینہ کا وفد
۱۲ نبوی (۶۲۱ء) کے موسمِ حج میں مدینہ منورہ سے بارہ (12) افراد پر مشتمل ایک وفد مکہ پہنچا جس نے عقبہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ سے خفیہ ملاقات کی۔ ان میں سے پانچ افراد وہ تھے جو پچھلے سال بھی آ چکے تھے، جبکہ سات نئے افراد شامل تھے۔ وفد کی تفصیل درج ذیل ہے:
قبیلہ خزرج کے صحابہ:
- حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ (نقيبِ اول)
- حضرت رافع بن مالک رضی اللہ عنہ
- حضرت عوف بن حارث رضی اللہ عنہ
- حضرت قطبہ بن عامر رضی اللہ عنہ
- حضرت عقبہ بن عامر بن نابی رضی اللہ عنہ
- حضرت معاذ بن حارث رضی اللہ عنہ
- حضرت ذکوان بن عبد قیس رضی اللہ عنہ
- حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ
- حضرت یزید بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ
- حضرت عباس بن عبادہ رضی اللہ عنہ
قبیلہ اوس کے صحابہ:
- حضرت ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ
- حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ
بیعتِ عقبہ اولیٰ کی تفاصیل اور شروطِ بیعت
یہ بیعت جمرہ عقبہ کے پاس رات کی تاریکی میں انجام پائی تاکہ مشرکینِ مکہ کو اس کا علم نہ ہو سکے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ان شروط پر بیعت لی:
- ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
- ہم چوری نہیں کریں گے۔
- ہم زنا نہیں کریں گے۔
- ہم اپنی اولاد کو (غربت یا عار کے خوف سے) قتل نہیں کریں گے۔
- ہم کسی پر بہتان اور تہمت نہیں لگائیں گے۔
- ہم کسی بھی معروف (نیک کام) میں رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گے۔
چونکہ اس بیعت میں تاحال جنگ و قتال کی شرط شامل نہیں تھی، اس لیے مؤرخین اسے ‘بیعتِ نساء’ (عورتوں کی بیعت کی طرح، جو سورہ ممتحنہ میں مذکور ہے) بھی کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر تم نے اس عہد کو پورا کیا تو تمہارے لیے جنت ہے، اور اگر کوئی لغزش ہوئی تو تمہارا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، وہ چاہے تو سزا دے یا معاف فرما دے۔”
تزویراتی اثرات اور حضرت مصعب بن عمیرؓ کی سفارت
بیعتِ عقبہ اولیٰ کا سب سے اہم تزویراتی (Strategic) نتیجہ یہ نکلا کہ جب انصار کا یہ وفد مدینہ واپس جانے لگا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ انہیں دین کی تعلیم اور قرآن پڑھانے کے لیے کوئی معلم عطا فرمایا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ بنی عبد الدار کے نوجوان اور فصیح اللسان صحابی، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا پہلا سفیر اور معلم بنا کر روانہ فرمایا۔
حضرت مصعب بن عمیرؓ نے مدینہ منورہ پہنچ کر حضرت اسعد بن زرارہؓ کے ہاں قیام کیا اور اتنی حکمت اور تندہی سے دعوتِ دین کا کام کیا کہ مدینہ کا کوئی گھر ایسا نہ بچا جہاں اسلام کا تذکرہ نہ پہنچ گیا ہو۔ مدینہ کے بااثر سرداروں جیسے حضرت سعد بن معاذؓ اور حضرت اسید بن حضیرؓ نے حضرت مصعبؓ کی دعوت پر اسلام قبول کیا، جس سے یثرب (مدینہ) کی زمین اسلام کا مضبوط گڑھ بننے کے لیے تیار ہو گئی۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
قرآن مجید کی سورہ الممتحنہ کی آیت ۱۲ میں ان شروط کا تذکرہ ملتا ہے جو اس بیعت کا محور تھیں۔ اس بیعت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی عظیم اسلامی انقلاب کی بنیاد مضبوط اخلاقی اقدار، توحید کی پختگی اور شرک و معاصی سے مکمل اجتناب پر رکھی جاتی ہے۔ یثرب کے مسلمانوں نے مکہ کے سنگین حالات کے باوجود مٹھی بھر جماعت کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کر کے دنیا کی عظیم ترین ہجرت اور اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن اسحاق، السيرة النبوية (کتاب المغازی والسیر)
- ابن ہشام، السيرة النبوية (جلد اول، ذکر بیعتِ عقبہ اولیٰ)
- ابن کثیر، البداية والنهاية (جلد سوم، باب وفود الانصار)
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ (تذکرہ انصارِ مدینہ و بیعتِ عقبہ)
- صفی الرحمن مبارکپوری، الرحیق المختوم (عقبہ کی پہلی بیعت کا تذکرہ)
”
”
}
