📖 تاریخ، پس منظر اور شہرت کا راز
سوہن حلوہ مغل عہد سے ملتان کا شاہی تحفہ رہا ہے، مگر حافظ خاندان کے بزرگ مولانا عبدالودود نے اس فن کو روحانی تقدس اور ایمانداری کے ساتھ ایک فن پارہ بنا دیا۔ روزانہ فجر کے وقت خالص بھینس کا دودھ دیو ہیکل کڑاہوں میں چڑھایا جاتا ہے اور کاریگر مسلسل لکڑی کے کفگیر سے اسے ہلاتے رہتے ہیں۔ اخروٹ، پستہ اور کاجو کے چھڑکاؤ کے بعد جب یہ حلوہ گرم گرم ٹن کے خوبصورت ڈبوں میں پیک ہوتا ہے تو اس کی خوشبو پورے بازار کو معطر کر دیتی ہے۔ ملتان آنے والا ہر سربراہِ مملکت اور غیر ملکی سفیر یہاں کا حلوہ بطورِ خاص اپنے ہمراہ لے کر جاتا ہے۔
