📖 تاریخ، پس منظر اور شہرت کا راز
تاریخی روایات کے مطابق ماضی میں جب دلہن کی ڈولی رخصت ہوتی تھی یا مسافر دور دراز کے سفر پر نکلتے تھے تو یہ روٹی ہمراہ دی جاتی تھی کیونکہ اپنے مخصوص قدرتی خمیر کی وجہ سے یہ کئی دن تک خراب نہیں ہوتی، اسی نسبت سے اس کا نام "ڈولی روٹی" پڑا۔ اندرونِ بوہڑ گیٹ میں پرانے نانبائی آج بھی مٹی کے مٹکوں میں خمیر تیار کرتے ہیں اور گھی کے کڑاہوں میں اسے دھیمی آنچ پر تلتے ہیں۔ املی کے اچار کے ساتھ اس کا ناشتہ ملتان کی یادگار سوغات ہے۔
