W
حضرت واصف علی واصفؒ (15 جنوری 1929ء – 18 جنوری 1993ء، خوشاب / لاہور) بیسویں صدی کے نامور ترین صوفی بزرگ، عظیم شاعر، فلسفی دانشور اور قطب الاقطاب ادیب تھے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ آپ کی تحریریں اور اقوال حکمت و دانائی، تصوف، معرفتِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ کا بے بہا خزانہ ہیں۔
آپ کا صوفیانہ کلام اور نثری شاہکار دریا کو کوزے میں بند کرنے کی لازوال مثال ہیں۔ آپ کے شہرۂ آفاق نثری شاہکاروں میں 'قطرہ قطرہ قلزم'، 'دل دریا سمندر'، 'حرف حرف حقیقت'، 'کرن کرن سورج'، 'بات سے بات' اور شعری مجموعہ 'شبِ چراغ' شامل ہیں۔ آپ کا مزارِ مبارک میانی صاحب، لاہور میں مرجع خلائق ہے۔
آپ کا صوفیانہ کلام اور نثری شاہکار دریا کو کوزے میں بند کرنے کی لازوال مثال ہیں۔ آپ کے شہرۂ آفاق نثری شاہکاروں میں 'قطرہ قطرہ قلزم'، 'دل دریا سمندر'، 'حرف حرف حقیقت'، 'کرن کرن سورج'، 'بات سے بات' اور شعری مجموعہ 'شبِ چراغ' شامل ہیں۔ آپ کا مزارِ مبارک میانی صاحب، لاہور میں مرجع خلائق ہے۔
Hazrat Wasif Ali Wasif (January 15, 1929 – January 18, 1993) was one of the most revered Sufi mystics, poets, and intellectual masters of the 20th century. Famous for his profound aphorisms, short essays, and spiritual poetry, his writings distilled deep spiritual truths and divine love with unparalleled simplicity. His iconic works include 'Qatra Qatra Qulzum', 'Dil Darya Samundar', 'Harf Harf Haqeeqat', 'Kiran Kiran Sooraj', and his poetry collection 'Shab-e-Chiragh'.
حضرت واصف علی واصفؒ (15 جنوری 1929ء – 18 جنوری 1993ء، خوشاب / لاہور) بیسویں صدی کے نامور ترین صوفی بزرگ، عظیم شاعر، فلسفی دانشور اور قطب الاقطاب ادیب تھے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ آپ کی تحریریں اور اقوال حکمت و دانائی، تصوف، معرفتِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ کا بے بہا خزانہ ہیں۔
آپ کا صوفیانہ کلام اور نثری شاہکار دریا کو کوزے میں بند کرنے کی لازوال مثال ہیں۔ آپ کے شہرۂ آفاق نثری شاہکاروں میں ‘قطرہ قطرہ قلزم’، ‘دل دریا سمندر’، ‘حرف حرف حقیقت’، ‘کرن کرن سورج’، ‘بات سے بات’ اور شعری مجموعہ ‘شبِ چراغ’ شامل ہیں۔ آپ کا مزارِ مبارک میانی صاحب، لاہور میں مرجع خلائق ہے۔
