قدرت اللہ شہاب
Qudratullah Shahab
قیامِ پاکستان کے بعد آپ گورنر جنرل غلام محمد، صدر اسکندر مرزا، اور صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے پرنسپل سیکرٹری رہے۔ بعد ازاں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر اور سیکرٹری تعلیم بھی رہے۔ قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی اور اشفاق احمد پر مشتمل 'صوفی تکون' کے روحانی سربراہ مانے جاتے تھے۔ ان کی شہرۂ آفاق آپ بیتی 'شہاب نامہ' کو تاریخِ پاکستان، بیوروکریسی کے اندرونی احوال اور تصوف کی عظیم ترین خود نوشت کا درجہ حاصل ہے۔ ان کے دیگر لازوال شاہکاروں میں 'ماں جی'، 'یاخدا'، 'سرخ فیطہ' اور 'نفسانے' شامل ہیں۔
قدرت اللہ شہاب (26 فروری 1917ء – 24 جولائی 1986ء، گلگت / اسلام آباد) برصغیر پاک و ہند کے ممتاز ترین بیوروکریٹ، صوفی منش ادیب اور عظیم خود نوشت نگار تھے۔ آپ نے پرنس آف ویلز کالج جموں اور گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور برطانوی دور میں انڈین سول سروس (ICS) کے باوقار امتحان میں کامیابی حاصل کی۔
قیامِ پاکستان کے بعد آپ گورنر جنرل غلام محمد، صدر اسکندر مرزا، اور صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے پرنسپل سیکرٹری رہے۔ بعد ازاں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر اور سیکرٹری تعلیم بھی رہے۔ قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی اور اشفاق احمد پر مشتمل ‘صوفی تکون’ کے روحانی سربراہ مانے جاتے تھے۔ ان کی شہرۂ آفاق آپ بیتی ‘شہاب نامہ’ کو تاریخِ پاکستان، بیوروکریسی کے اندرونی احوال اور تصوف کی عظیم ترین خود نوشت کا درجہ حاصل ہے۔ ان کے دیگر لازوال شاہکاروں میں ‘ماں جی’، ‘یاخدا’، ‘سرخ فیطہ’ اور ‘نفسانے’ شامل ہیں۔
