Q

قدرت اللہ شہاب

Qudratullah Shahab

Books (0)
قدرت اللہ شہاب (26 فروری 1917ء – 24 جولائی 1986ء، گلگت / اسلام آباد) برصغیر پاک و ہند کے ممتاز ترین بیوروکریٹ، صوفی منش ادیب اور عظیم خود نوشت نگار تھے۔ آپ نے پرنس آف ویلز کالج جموں اور گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور برطانوی دور میں انڈین سول سروس (ICS) کے باوقار امتحان میں کامیابی حاصل کی۔

قیامِ پاکستان کے بعد آپ گورنر جنرل غلام محمد، صدر اسکندر مرزا، اور صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے پرنسپل سیکرٹری رہے۔ بعد ازاں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر اور سیکرٹری تعلیم بھی رہے۔ قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی اور اشفاق احمد پر مشتمل 'صوفی تکون' کے روحانی سربراہ مانے جاتے تھے۔ ان کی شہرۂ آفاق آپ بیتی 'شہاب نامہ' کو تاریخِ پاکستان، بیوروکریسی کے اندرونی احوال اور تصوف کی عظیم ترین خود نوشت کا درجہ حاصل ہے۔ ان کے دیگر لازوال شاہکاروں میں 'ماں جی'، 'یاخدا'، 'سرخ فیطہ' اور 'نفسانے' شامل ہیں۔
Qudratullah Shahab (February 26, 1917 – July 24, 1986) was one of Pakistan's most distinguished civil servants, literary giants, and Sufi mystics. An ICS officer, he served as Principal Secretary to three Heads of State (Ghulam Muhammad, Iskander Mirza, and Ayub Khan) and as Ambassador to the Netherlands. His monumental autobiography 'Shahab Nama' is universally acclaimed as a masterwork combining political history, bureaucratic intrigues, and profound mystical experiences.

قدرت اللہ شہاب (26 فروری 1917ء – 24 جولائی 1986ء، گلگت / اسلام آباد) برصغیر پاک و ہند کے ممتاز ترین بیوروکریٹ، صوفی منش ادیب اور عظیم خود نوشت نگار تھے۔ آپ نے پرنس آف ویلز کالج جموں اور گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور برطانوی دور میں انڈین سول سروس (ICS) کے باوقار امتحان میں کامیابی حاصل کی۔

قیامِ پاکستان کے بعد آپ گورنر جنرل غلام محمد، صدر اسکندر مرزا، اور صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے پرنسپل سیکرٹری رہے۔ بعد ازاں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر اور سیکرٹری تعلیم بھی رہے۔ قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی اور اشفاق احمد پر مشتمل ‘صوفی تکون’ کے روحانی سربراہ مانے جاتے تھے۔ ان کی شہرۂ آفاق آپ بیتی ‘شہاب نامہ’ کو تاریخِ پاکستان، بیوروکریسی کے اندرونی احوال اور تصوف کی عظیم ترین خود نوشت کا درجہ حاصل ہے۔ ان کے دیگر لازوال شاہکاروں میں ‘ماں جی’، ‘یاخدا’، ‘سرخ فیطہ’ اور ‘نفسانے’ شامل ہیں۔