M
ممتاز مفتی
Mumtaz Mufti
Books (0)
ممتاز مفتی (11 ستمبر 1905ء – 27 اکتوبر 1995ء، بٹالہ / اسلام آباد) اردو ادب کے عظیم ترین مایہ ناز ناول نگار، صوفی دانشور، خاکہ نگار اور خود نوشت نگار تھے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں تدریس اور محکمہ اطلاعات و نشریات سے وابستہ رہے۔
ممتاز مفتی کی فکری زندگی کا سفر فرائیڈین نفسیات اور مادیت پرستی سے شروع ہو کر قدرت اللہ شہاب کی صحبت میں تصوف، عشقِ رسول ﷺ اور معرفتِ الٰہی پر مکمل ہوا۔ ان کا شاہکار ضخیم سوانحی ناول 'علی پور کا ایلی' اور اس کا تسلسل 'الکھ نگری' اردو فکشن اور آپ بیتی کی تاریخ کے درخشندہ سنگِ میل مانے جاتے ہیں۔ ان کا سفرنامہِ حج 'لبیک' اور سفرنامہِ تلاشِ حق 'تلاش' روحانی ادب کے بے مثال خزانے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔
ممتاز مفتی کی فکری زندگی کا سفر فرائیڈین نفسیات اور مادیت پرستی سے شروع ہو کر قدرت اللہ شہاب کی صحبت میں تصوف، عشقِ رسول ﷺ اور معرفتِ الٰہی پر مکمل ہوا۔ ان کا شاہکار ضخیم سوانحی ناول 'علی پور کا ایلی' اور اس کا تسلسل 'الکھ نگری' اردو فکشن اور آپ بیتی کی تاریخ کے درخشندہ سنگِ میل مانے جاتے ہیں۔ ان کا سفرنامہِ حج 'لبیک' اور سفرنامہِ تلاشِ حق 'تلاش' روحانی ادب کے بے مثال خزانے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔
Mumtaz Mufti (September 11, 1905 – October 27, 1995) was one of Urdu literature's most celebrated novelists, Sufi autobiographers, and psychoanalytic storytellers. His monumental semi-autobiographical novels 'Alipur Ka Aili' and 'Alakh Nagri' are landmarks of Urdu literature, depicting a soul's transition from Freudian skepticism to mystic Sufism under Qudratullah Shahab. His spiritual pilgrimage travelogue 'Labbaik' and mystical quest 'Talash' are timeless classics. He was honored with the Sitara-e-Imtiaz and Pride of Performance.
ممتاز مفتی (11 ستمبر 1905ء – 27 اکتوبر 1995ء، بٹالہ / اسلام آباد) اردو ادب کے عظیم ترین مایہ ناز ناول نگار، صوفی دانشور، خاکہ نگار اور خود نوشت نگار تھے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں تدریس اور محکمہ اطلاعات و نشریات سے وابستہ رہے۔
ممتاز مفتی کی فکری زندگی کا سفر فرائیڈین نفسیات اور مادیت پرستی سے شروع ہو کر قدرت اللہ شہاب کی صحبت میں تصوف، عشقِ رسول ﷺ اور معرفتِ الٰہی پر مکمل ہوا۔ ان کا شاہکار ضخیم سوانحی ناول ‘علی پور کا ایلی’ اور اس کا تسلسل ‘الکھ نگری’ اردو فکشن اور آپ بیتی کی تاریخ کے درخشندہ سنگِ میل مانے جاتے ہیں۔ ان کا سفرنامہِ حج ‘لبیک’ اور سفرنامہِ تلاشِ حق ‘تلاش’ روحانی ادب کے بے مثال خزانے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔
