A

اشفاق احمد

Ashfaq Ahmed

Books (0)
اشفاق احمد (22 اگست 1925ء – 7 ستمبر 2004ء، مکتسر / لاہور) اردو زبان و ادب کے عظیم ترین مفکر، صوفی دانشور، مایہ ناز افسانہ نگار، ڈرامہ نویس اور براڈکاسٹر تھے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے اردو میں ایم اے کیا اور بعد ازاں اٹلی کی روم یونیورسٹی اور فرانس کی گرینوبل یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

اشفاق احمد صاحب کو اردو ادب میں 'بابا صاحبا' کا منفرد و معتبر مقام حاصل ہے۔ آپ نے پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کے مقبول ترین فکری پروگرام 'زاویہ' کے ذریعے تصوف، انسانی ہمدردی، اخوت اور آسان زندگی گزارنے کے فلسفے کو گھر گھر پہنچایا۔ ان کا شاہکار افسانہ 'گڈریا' اردو فکشن کی تاریخ کا لازوال شاہکار مانا جاتا ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق تصانیف میں 'زاویہ (حصہ 1، 2، 3)'، 'من چلے کا سودا'، 'بابا صاحبا'، 'سفر در سفر'، 'ایک محبت سو افسانے'، 'تالکلوت' اور 'حیرت کدہ' شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance)، ستارہِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا۔
Ashfaq Ahmed (August 22, 1925 – September 7, 2004) was one of Pakistan's greatest literary icons, Sufi philosophers, playwrights, and broadcasters. Beloved as 'Baba Sahiba', his legendary television program 'Zavia' introduced practical Sufism, empathy, and spiritual wisdom to millions. His masterpiece short story 'Gaddariya' is widely celebrated as one of the greatest works in Urdu fiction history. He was honored with the Pride of Performance, Sitara-e-Imtiaz, and Hilal-e-Imtiaz.

اشفاق احمد (22 اگست 1925ء – 7 ستمبر 2004ء، مکتسر / لاہور) اردو زبان و ادب کے عظیم ترین مفکر، صوفی دانشور، مایہ ناز افسانہ نگار، ڈرامہ نویس اور براڈکاسٹر تھے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے اردو میں ایم اے کیا اور بعد ازاں اٹلی کی روم یونیورسٹی اور فرانس کی گرینوبل یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

اشفاق احمد صاحب کو اردو ادب میں ‘بابا صاحبا’ کا منفرد و معتبر مقام حاصل ہے۔ آپ نے پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کے مقبول ترین فکری پروگرام ‘زاویہ’ کے ذریعے تصوف، انسانی ہمدردی، اخوت اور آسان زندگی گزارنے کے فلسفے کو گھر گھر پہنچایا۔ ان کا شاہکار افسانہ ‘گڈریا’ اردو فکشن کی تاریخ کا لازوال شاہکار مانا جاتا ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق تصانیف میں ‘زاویہ (حصہ 1، 2، 3)’، ‘من چلے کا سودا’، ‘بابا صاحبا’، ‘سفر در سفر’، ‘ایک محبت سو افسانے’، ‘تالکلوت’ اور ‘حیرت کدہ’ شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance)، ستارہِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا۔