شاعری ہب / غزل / آنکھ اس مست کی گلابی ہے

آنکھ اس مست کی گلابی ہے

Aankh Us Mast ki Gulabi Hai Ghazal Wali

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

آنکھ اس مست کی گلابی ہے

جس سے ہر دل کی شے شرابی ہے!

عشق میں بے خودی کا عالم ہے

جہاں خود ہوش بھی خرابی ہے!

ولیؔ ریختہ کا یہ پہلا نکھار

جس کی دنیا سدا جوابی ہے!

Aankh Us Mast Ki Gulaabi Hai

Jis Se Har Dil Ki Shai Sharaabi Hai!

Ishq Mein Be-Khudi Ka Aalam Hai

Jahan Khud Hosh Bhi Kharaabi Hai!

Wali Rekhta Ka Yeh Pehla Nikhaar

Jis Ki Duniya Sada Jawaabi Hai!

غزل Urdu
Comment
ولی دکنی
تعارفِ شاعر

ولی دکنی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1667ء — 1707ء 📍

ولی محمد ولی المعروف ولیؔ دکنی (1667ء – 1707ء، اورنگ آباد / دکن) اردو شاعری کی تاریخ کے سب سے اہم ترین ستون اور 'باباۓ ریختہ' کہلاتے ہیں۔ آپ وہ پہلے عظیم شاعر ہیں جن...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے