شاعری ہب / نظم / کشتی اور سمندر

کشتی اور سمندر

Kaashti-Aur-Samundar-Nazm-Badr

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کشتی کے مسافر کو سمندر کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا

جب تک کہ وہ خود طوفانوں کے رو بہ رو نہ آ جائے!

ہم نے تو زندگی کے ہر امتحاں کو مسکرا کے سہا ہے

تا کہ خودداری کے ساحل پہ نیا نشان لگ جائے!

بشیرؔ ہمت اور عزم کا یہ فسانہ سدا رہے گا

جس پر فخر کرتا ہے سدا ادب کا کارواں!

Kashti Ke Musaafir Ko Samundar Ki Gehraayi Ka Andaaza Nahin Hota

Jab Tak Ke Woh Khud Toofaanon Ke Roo-ba-Roo Na Aa Jaaye!

Hum Ne To Zindagi Ke Har Imtihaan Ko Muskura Ke Saha Hai

Ta Ke Khuddaari Ke Saahil Pe Naya Nishaan Lag Jaaye!

Bashir Himmat Aur Azm Ka Yeh Fasaana Sada Rahe Ga

Jis Par Fakhr Karta Hai Sada Adab Ka Kaarwaan!

نظم Urdu
Comment
ڈاکٹر بشیر بدر
تعارفِ شاعر

ڈاکٹر بشیر بدر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 15 فروری 1935 📍 کانپور / ایودھیا / بھوپال، بھارت

سید محمد بشیر المعروف ڈاکٹر بشیرؔ بدر (پیدائش: 15 فروری 1935ء، کانپور / ایودھیا، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے سب سے رومانی، سحر انگیز اور دلوں کو چھو لینے والے شاعراں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے