سعودی عرب 8 نومبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 695

سعودی دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے والے دو حوثی میزائل تباہ کر دیے: فوجی اتحاد

سعودی دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے والے دو حوثی میزائل تباہ کر دیے: فوجی اتحاد

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 5:48 شام

سعودی عرب کے فوجی اتحاد نے اتوار کو کہا ہے کہ سعودی فضائی دفاع نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے دارالحکومت ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا ہے۔

اس سے قبل سعودی فضائی دفاع نے مشرقی صوبے کو نشانہ بنانے والے ایک میزائل کو بھی فضا میں تباہ کر دیا تھا۔ 

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ان میزائلوں کو روکنے کا اعلان کیا، جو نومبر کے آغاز سے کئی سعودی علاقوں کو نشانہ بنانے والے فضائی خطرات کے سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ 

دوسری طرف سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے اتوار کو ریاض شہر اور صوبہ نجران میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیے جو کچھ دیر بعد واپس لے لیے گئے۔

اس سے پہلے بقیق اور الاحسا کے علاقوں اور دمام شہر میں بھی خطرے کی وارننگ جاری کی گئی تھی، جسے خطرہ ٹلتے ہی فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔

التحالف: اعتراض وتدمير صاروخين طواف (كروز) بمنطقتي الرياض والجنوبية. https://t.co/pUlP8Fe4g7

— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) November 8, 2026

اتحادی فوج کے مطابق رواں ماہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں کم از کم 15 بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں روک کر تباہ کر دیا گیا۔

ہفتے کو فضائی دفاع نے ریاض کے علاقے کی جانب داغا گیا ایک کروز میزائل تباہ کر دیا۔ اس سے ایک دن قبل نجران کو نشانہ بنانے والے دو بیلسٹک میزائل روک لیے گئے تھے۔ ان کا ملبہ زمین پر گرا اور حکام ممکنہ نقصان کا جائزہ لیا۔

چھ نومبر کو ریاض اور مکہ کے علاقوں میں دو ڈرون بھی تباہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ پانچ نومبر کو مدینہ کے علاقے کو نشانہ بنانے والا ایک بیلسٹک میزائل، تین نومبر کو جنوبی، مشرقی اور مکہ کے علاقوں کی جانب بھیجے گئے تین ڈرون، جب کہ دو نومبر کو ریاض اور جنوبی علاقے کو نشانہ بنانے والے دو ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل روک لیے گئے۔

اتحادی فوج نے یہ بھی بتایا کہ یکم نومبر کو جنوبی علاقے کی جانب بھیجا گیا ایک ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا گیا تھا۔

تازہ حملے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور دوسرے بنیادی ڈھانچے پر حوثیوں کے ان حملوں کے بعد ہوئے ہیں جن سے شہری فضائی سفر بری طرح متاثر ہوا۔