شاعری ہب / نظم / پیدا شکوہِ نطق و زباں ہے دبیرؔ سے

پیدا شکوہِ نطق و زباں ہے دبیرؔ سے

Paida Shukoh-e-Nutq-o-Zuban Hai Dabeer se Marsiya Dabeer

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

پیدا شکوہِ نطق و زباں ہے دبیرؔ سے

اور فصاحت کا دریا رواں ہے دبیرؔ سے!

ہم نے تو الفاظ کو ہیرے جواہر بنا دیا

جہاں ہر بند میں شجاعت کا گوہر دمکتا ہے سدا!

مرثیہ نگاری کا یہ استاد سدا یاد رہے گا

جس پر فخر کرتا ہے سارا چمنِ لکھنؤ سدا!

Paida Shukoh-e-Nutq-o-Zubaan Hai Dabeer Se

Aur Fasaahat Ka Dariya Rawaan Hai Dabeer Se!

Hum Ne To Alfaaz Ko Heere Jawaahir Bana Diya

Jahan Har Band Mein Shujaat Ka Gauhar Damakta Hai Sada!

Marsiya-Nigaari Ka Yeh Ustaad Sada Yaad Rahe Ga

Jis Par Fakhr Karta Hai Saara Chaman-e-Lucknow Sada!

نظم Urdu
Comment
مرزا سلامت علی دبیر
تعارفِ شاعر

مرزا سلامت علی دبیر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 29 اگست 1803 — 6 مارچ 1875 📍

مرزا سلامت علی دبیرؔ (29 اگست 1803ء – 6 مارچ 1875ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے جلیل القدر مرثیہ نگار، لغت و بلاغت کے بے مثل استاد اور شکوہِ الفاظ کے شہنشاہ تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے