شاعری ہب / غزل / ترے سنگ در سے مجھ کو ، یہ ملی ہے سر بلندی

ترے سنگ در سے مجھ کو ، یہ ملی ہے سر بلندی

Tere Sang-e-Dar se Mujh Ko, Yeh Mili Hai Sar-Bulandi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ترے سنگ در سے مجھ کو ، یہ ملی ہے سر بلندی

مرا تاج سروری ہے ، تری خاک آستانا

مرے ساتھ تو رہے گا تو زمانہ کیا کہے گا

مری اک یہی تمنا ، اُسے اک یہی بہانا

یہ وفاؤں کا صلہ ہے ، یہ کرم کی انتہا ہے

مجھے اُس نے اپنا سمجھا ، مجھے اُس نے اپنا جانا

نہیں اُن کی ذات سے کچھ ، مجھے اے نصیر نسبت

ئیں گل خزاں رسیدہ ، وہ بہار جاودانا

Tere sang-e-dar se mujh ko, yeh mili hai sar-bulandi

Mera taj-e-sarwari hai, teri khaak-e-aastaana

Mere saath to rahay ga to zamana kya kahay ga

Meri ik yehi tamanna, usay ik yehi bahana

Yeh wafaon ka sila hai, yeh karam ki intiha hai

Mujhe us ne apna samjha, mujhe us ne apna jaana

Nahi un ki zaat se kuch, mujhe ae Naseer nisbat

Main gul-e-khazan raseeda, woh bahaar-e-jaavedana

غزل Urdu
Comment
پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ
تعارفِ شاعر

پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1949ء – 2009ء 📍 گولڑہ شریف، اسلام آباد، پاکستان

سید پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ (14 نومبر 1949ء – 13 فروری 2009ء، گولڑہ شریف، اسلام آباد) خانقاہِ عالیہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین، عظیم صوفی بزرگ، محقق اور قادر الکلام شاعر تھے۔ وہ حضرت...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔