شاعری ہب / غزل / دل کو تیری یاد سے فرصت نہیں ملی

دل کو تیری یاد سے فرصت نہیں ملی

Dil ko Teri Yaad se Fursat Nahin Mili Qateel

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل کو تیری یاد سے فرصت نہیں ملی کبھی

ہر سانس میں ترا ہی نام گونجتا رہا سدا!

ہم نے تو دیکھے تھے خوابِ وصال کے دیپ

پر ہجر کا یہ غم دل کو تڑپاتا رہا سدا!

قتیلؔ وفا کا یہ رشتہ کبھی نہ ٹوٹ سکے گا

جس نے دل کو سچا پیار سکھایا رہا سدا!

Dil Ko Teri Yaad Se Fursat Nahin Mili Kabhi

Har Saans Mein Tera Hi Naam Goonjta Raha Sada!

Hum Ne To Dekhe The Khwab-e-Wisaal Ke Deep

Par Hijr Ka Yeh Gham Dil Ko Tadpaata Raha Sada!

غزل Urdu
Comment
قتیل شفائی
تعارفِ شاعر

قتیل شفائی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 دسمبر 1919 — 11 جولائی 2001 📍 ہری پور / لاہور، پاکستان

محمد اورنگزیب خان المعروف قتیلؔ شفائی (24 دسمبر 1919ء – 11 جولائی 2001ء) اردو غزل اور فلمی نغمہ نگاری کی تاریخ کے سب سے مقبول، سحر انگیز ترنم کے مالک اور نغمگی کے بے تاج...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے