مرزا سلامت علی دبیر
Mirza Salamat Ali Dabeer
Classical
29 اگست 1803-6 مارچ 1875
دہلی / لکھنؤ, ہندوستان
مرزا سلامت علی دبیرؔ (29 اگست 1803ء – 6 مارچ 1875ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے جلیل القدر مرثیہ نگار، لغت و بلاغت کے بے مثل استاد اور شکوہِ الفاظ کے شہنشاہ تھے۔ آپ دہلی میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی میں لکھنؤ منتقل ہو گئے جہاں میر مظفر حسین ضمیرؔ سے مرثیہ نگاری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ مرزا دبیر اور میر انیسؔ کی معاصرانہ چمک نے 19ویں صدی کے لکھنؤ میں اردو مرثیے کو تاریخ کا زریں ترین دور بخشا۔ دبیر کا خاص کمال ان کی علمیت، نادر تشبیہات، رزمیہ مناظر کی گرج چمک، عربی و فارسی الفاظ کی شوکت اور تخیل کی بلندی تھی۔ ان کا رزمیہ مرثیہ 'کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے / رستم کا جگر، شمشیرِ شجاعت کا دہن کانپ رہا ہے' اردو زبان کا شاہکار ہے۔ آپ کی تصانیف 6 ضخیم جلدوں پر مشتمل مجموعۂ مرثیہ 'دفترِ ماتم' اور 'رباعیاتِ دبیر' میں محفوظ ہیں۔ آپ کا مزار مبارک چوک، لکھنؤ میں واقع ہے۔
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رستم کا جگر، سام کا تن کانپ رہا ہے
Kis Sher Ki Aamad Hai Ke Ran Kaanp Raha Hai
Rustam Ka Jigar, Saam Ka Tan Kaanp Raha Hai
پیدا شکوہِ نطق و زباں ہے دبیرؔ سے
اور فصاحت کا دریا رواں ہے دبیرؔ سے
Paida Shukoh-e-Nutq-o-Zubaan Hai Dabeer Se
Aur Fasaahat Ka Dariya Rawaan Hai Dabeer Se
ہر سانس میں ذکرِ علیؑ و حسینؑ ہے
دل میں سجی ہوئی یہ بہارِ یقین ہے
Har Saans Mein Zikr-e-Ali-o-Hussain Hai
Dil Mein Saji Hui Yeh Bahaar-e-Yaqeen Hai
بے مثال ہے کربل کا شہیدِ اعظم سدا
جس کے لہو سے چمکا ہے یہ دینِ خدا
Be-Misaal Hai Karbal Ka Shaheed-e-Azam Sada
Jis Ke Lahoo Se Chamka Hai Yeh Deen-e-Khuda
شکرِ خدا کہ وردِ زباں ہے علیؑ علیؑ
جس کے کرم سے کٹتا ہے ہر درد ہر گھڑی
Shukr-e-Khuda Ke Wird-e-Zuban Hai Ali Ali
Jis Ke Karam Se Katta Hai Har Dard Har Ghadi
حق و صداقت کا یہی فسانہ ہے دبیرؔ
جس پر نچھاور یہ سارا زمانہ ہے
Haq-o-Sadaaqat Ka Yehi Fasaana Hai Dabeer
Jis Par Nichhawar Yeh Saara Zamana Hai
دستِ خدا کا شیر ہے عباسِ باوفاؑ
جس کے علم کے سائے میں اسلام ہے کھلا
Dast-e-Khuda Ka Sher Hai Abbas-e-Bawafa
Jis Ke Alam Ke Saaye Mein Islam Hai Khila
پیدا شعاعِ مہر کی مانند جب ہوا
روشن جہاں میں نورِ ہدایت کا رخ ہوا
Paida Shua-e-Meher Ki Manind Jab Hua
Roshan Jahan Mein Noor-e-Hidayat Ka Rukh Hua
اے چاند کربلا کے تجھے دیکھ کر جئیں
غم کے اندھیروں میں ترے نور سے جئیں
Aye Chaand Karbala Ke Tujhe Dekh Kar Jiyen
Gham Ke Andheron Mein Tere Noor Se Jiyen
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رستم کا جگر، شمشیرِ شجاعت کا دہن کانپ رہا ہے
Kis Sher Ki Aamad Hai Ke Ran Kaanp Raha Hai
Rustam Ka Jigar, Shamsheer-e-Shujaat Ka Dahan Kaanp Raha Hai
