زکوٰۃ کا شرعی نصاب، حساب کتاب اور مستحقین کے مصارف کی جامع گائیڈ
- زکوٰۃ فرض مالی عبادت ہے جو مال کو پاک اور پاکیزہ بناتی ہے۔
- سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولے ہے۔
- نقدی، بینک بیلنس اور مالِ تجارت پر سال گزرنے کے بعد 2.5 فیصد زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔
- زکوٰۃ صرف قرآن مجید میں بیان کردہ آٹھ مستحق مصارف میں ہی خرچ کی جا سکتی ہے۔
مال کا تزکیہ اور غریبوں کا حق: زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ یہ محض خیرات نہیں بلکہ مالداروں کے مال میں غریبوں اور مسکینوں کا شرعی حق ہے جو اللہ نے مقرر فرمایا ہے۔
1. زکوٰۃ کا شرعی نصاب
زکوٰۃ اس مسلمان پر فرض ہے جو صاحبِ نصاب ہو اور اس کے مال پر مکمل ایک قمری سال گزر چکا ہو۔ نصاب کی تفصیل درج ذیل ہے:
- سونا: 7.5 تولے (تقریباً 87.48 گرام) سونا ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔
- چاندی: 52.5 تولے (تقریباً 612.36 گرام) چاندی ہو۔
- نقدی و مالِ تجارت: اگر کسی کے پاس صرف نقدی یا تجارت کا سامان ہو تو چاندی کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔ اگر اس کی مالیت 52.5 تولے چاندی کی بازاری قیمت کے برابر ہو تو سالانہ 2.5 فیصد (چالیسواں حصہ) زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔
2. زکوٰۃ کا حساب کیسے لگائیں؟
اپنے پاس موجود تمام نقد رقوم، بینک بیلنس، پرائز بانڈز، سونا چاندی اور دکان کے مالِ تجارت کی موجودہ مارکیٹ ویلیو جمع کریں۔ اس میں سے واجب الادا قلیل المدتی قرضے منہا کریں، اور باقی ماندہ رقم کو 40 سے تقسیم کر کے 2.5 فیصد زکوٰۃ نکال لیں۔
3. زکوٰۃ کے آٹھ مصارف
سورۃ التوبہ کی آیت 60 میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف متعین فرمائے گئے ہیں: فقراء، مساکین، زکوٰۃ وصول کرنے والے ملازمین، جن کی دلجوئی مقصود ہو، غلاموں کی آزادی، مقروض افراد، اللہ کے راستے میں نکلنے والے، اور مسافر۔ اپنے والدین، اولاد، میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے، جبکہ مستحق بہن بھائیوں، چچا، ماموں اور رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا دوہرے اجر (صدقہ اور صلہ رحمی) کا باعث ہے۔
