شاعری ہب / نظم / بغاوت (اے حریت کے متوالو)

بغاوت (اے حریت کے متوالو)

Baghawat Nazm Josh Malihabadi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے، گونج رہی ہیں تکبیریں

اک روز تو ٹوٹیں گی یہ ظلم کی زنجیریں!

اٹھو کہ زمانے کا رخ اب بدلنا ہے

ظالم کے ستم گاہ میں شعلہ بن کے جلنا ہے!

جوشؔ آزادی کی صبح نمودار ہو کے رہے گی

جب عوام کے لہو سے ہر وادی کھل اٹھے گی!

Kya Hind Ka Zindaan Kaanp Raha Hai, Goonj Rahi Hain Takbeerein

Ik Roz To Tootein Gi Yeh Zulm Ki Zanjeerein!

Utho Ke Zamane Ka Rukh Ab Badalna Hai

Zaalim Ke Sitam-Gaah Mein Shola Ban Ke Jalna Hai!

نظم Urdu
Comment
جوش ملیح آبادی
تعارفِ شاعر

جوش ملیح آبادی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 دسمبر 1898 — 22 فروری 1982 📍 ملیح آباد / لکھنؤ / دہلی / اسلام آباد، پاکستان

شبیر حسن خاں المعروف جوش ملیح آبادی (5 دسمبر 1898ء – 22 فروری 1982ء) اردو ادب کے سب سے پرشکوہ، قادر الکلام، انقلابی اور الفاظ کے سب سے بڑے شہسوار و جادوگر شاعر تھے۔ آپ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے