اسلام میں موت اور آخرت کا نظریہ: حقیقت، حکمت اور انسانی فکر پر اثرات

قلم
شعبہ تحقیق و تصنیف، ادارہ اردو کوریج 10 ستمبر 2026ء
اسلام میں موت اور آخرت کا نظریہ: حقیقت، حکمت اور انسانی فکر پر اثرات

موت کسی فنا اور خاتمے کا نام نہیں بلکہ ایک مرحلے سے دوسرے ابدی جہان کی طرف منتقلی کا نام ہے۔ عقیدۂ آخرت انسانی معاشرے اور اخلاق کی بنیاد کیسے بنتا ہے؟ مستند شرعی اور عقلی تجزیہ۔

اس کائنات کی سب سے بڑی، ناقابلِ تردید اور حتمی سچائی "موت” ہے۔ ایک ملحد بھی جو خدا کا انکار کرتا ہے، وہ بھی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ ایک دن اسے اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے۔ لیکن دنیاوی سوچ اور اسلامی نظریے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مادیت پرست موت کو انسان کے وجود کی کلی تباہی اور فنا سمجھتے ہیں، جبکہ اسلام موت کو قید خانے سے رہائی اور ابدی زندگی کے درخشندہ آغاز کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔

حقیقتِ موت
سورۃ آل عمران: ۱۸۵

«كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ»

”ہر جان کو موت کا مزا چکھنا ہے، اور تمہیں تمہارے اعمال کے پورے پورے بدلے قیامت کے دن دیے جائیں گے۔ پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہی اصل میں کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔“

۱. عقیدۂ آخرت: انسانی اخلاق کی ناگزیر بنیاد

اگر دنیا میں موت کے بعد کوئی حساب کتاب اور جزا و سزا کا دن نہ ہوتا تو یہ کائنات ایک ظالمانہ ناانصافی کی تماشا گاہ بن جاتی۔ چنگیز خان، ہٹلر اور فرعون جیسے ظالم جنہوں نے لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون بہایا، وہ بھی بغیر کسی سزا کے مٹی بن جاتے، اور انبیاء و صدیقین جنہوں نے انسانیت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، ان کی قربانیوں کا بھی کوئی ثمر نہ نکلتا۔

آخرت وہ عظیم میزان ہے جہاں ہر ذرے کے برابر نیکی اور ذرے کے برابر برائی کا مکمل حساب ہونا ہے۔ یہی عقیدہ ہے جو انسان کو تنہائی میں بھی گناہ کرنے سے روکتا ہے اور دل میں خوفِ خدا اور جوابدہی کا زندہ احساس پیدا کرتا ہے۔

۲. لذتوں کو ختم کرنے والی شے کی یاد

رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو بار بار تاکید فرمائی کہ وہ موت کو یاد رکھا کریں، کیونکہ موت کی یاد انسان کے اندر سے غرور، تکبر اور حرص کے زہر کو نکال باہر کرتی ہے۔

فرمانِ اقدس ﷺ
سنن ترمذی: ۲۳۰۷ (صحیح)

«أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ: الْمَوْتِ»

”لذتوں کو مٹا دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔“

۳. مومن کے لیے موت کی خوشخبری

ایک کافر اور گناہ گار کے لیے موت سب سے بڑی وحشت اور خوفناک صدمہ ہے کیونکہ اس کی دنیا ختم ہو رہی ہے اور اس کی کمائی ہوئی دولت پیچھے رہ رہی ہے، لیکن ایک سچے مؤمن کے لیے موت اپنے محبوب رب سے ملاقات کا خوشگوار پروانہ ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ فرماتے تھے کہ: ”مؤمن کے لیے موت سے بڑھ کر کوئی راحت بخش چیز نہیں، کیونکہ یہ دنیا کے تمام غموں اور رنجشوں سے نجات کا راستہ ہے۔“

فکری و عملی حاصل

  • موت کا وقت مقرر ہے، نہ ایک سیکنڈ آگے ہو سکتا ہے نہ پیچھے۔
  • دنیا میں ایسی تیاری کریں کہ جب موت کا فرشتہ آئے تو دل میں اطمینان ہو نہ کہ حسرت اور پچھتاوا۔
  • حقوق العباد کی فوری ادائیگی کریں تاکہ کل قیامت کے دن کسی کے حقوق آپ کی نیکیوں کو برباد نہ کر دیں۔
🏛️

ادارہ اردو کوریج — شعبہ تحقیق، مطالعہ و افتاء

یہ مضمون قرآن مجید، صحاح ستہ کی احادیث نبویہ اور سلف صالحین کے مستند علمی ماخذات کی تفصیلی جانچ کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ قارئین کسی بھی علمی یا فقہی مشورے کے لیے ہمارے شعبہ تحقیق سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے