شاعری ہب / غزل / چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

Chiraagh-e-Toor Jalao Bada Andhera Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

نقاب رخ سے اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے

حیات نام ہے جس کا فریبِ ہستی ہے

کوئی تو راستہ دکھاؤ بڑا اندھیرا ہے

مٹا کے خود کو بھی ہم پا نہ سکے تجھ کو

ہمیں گلے سے لگاؤ بڑا اندھیرا ہے

یہ دشتِ تیرہ و تاریک ہو گیا سارا

کوئی تو شمع جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

Chiraagh-e-Toor Jalao Bada Andhera Hai

Niqaab Rukh Se Uthao Bada Andhera Hai

Hayaat Naam Hai Jis Ka Fareb-e-Hasti Hai

Koi To Rasta Dikhao Bada Andhera Hai

Mita Ke Khud Ko Bhi Hum Paa Na Sake Tujh Ko

Humein Gale Se Lagao Bada Andhera Hai

غزل
Comment
ساغر صدیقی
تعارفِ شاعر

ساغر صدیقی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1928 — 19 جولائی 1974 📍

محمد اختر المعروف ساغر صدیقی (1928ء – 19 جولائی 1974ء) اردو زبان کے سب سے سچے، درویش، قلندر صفت اور المیہ کے عظیم شاعر تھے۔ آپ امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے