شاعری ہب / غزل / دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں (حکمت آمیز غزل)

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں (حکمت آمیز غزل)

Duniya mein Hoon Duniya ka Talabgar Nahin Hoon Akbar Allahabadi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں!

زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی

ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں!

اکبرؔ مجھے منظور نہیں مدحِ سلاطیں

شاعر ہوں مگر طالبِ دربار نہیں ہوں!

Duniya Mein Hoon Duniya Ka Talabgar Nahin Hoon

Bazaar Se Guzra Hoon Khareedaar Nahin Hoon!

Zinda Hoon Magar Zeest Ki Lazzat Nahin Baaqi

Har Chand Ke Hoon Hosh Mein Hoshyaar Nahin Hoon!

Akbar Mujhe Manzoor Nahin Madh-e-Salaateen

Shaair Hoon Magar Taalib-e-Darbaar Nahin Hoon!

غزل Urdu
Comment
اکبر الہٰ آبادی
تعارفِ شاعر

اکبر الہٰ آبادی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1846ء – 1921ء 📍 الہٰ آباد، برطانوی ہندوستان

سید اکبر حسین رضوی المعروف 'اکبر الہٰ آبادی' (16 نومبر 1846ء – 9 ستمبر 1921ء، الہٰ آباد) اردو شاعری کی تاریخ کے عظیم ترین طنز نگار اور 'لسان العصر' تھے۔ آپ سیشن جج کے اعلیٰ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے