شاعری ہب / نظم / کالج میں پڑھ رہے ہیں جوانانِ قوم خوش (طنزیہ نظم)

کالج میں پڑھ رہے ہیں جوانانِ قوم خوش (طنزیہ نظم)

College mein Padh Rahe Hain Jawanan E Qoum Khush Akbar Allahabadi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کالج میں پڑھ رہے ہیں جوانانِ قوم خوش

کمپنی کی نوکری کے تمنائی بن گئے!

پتلون پہن کے کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال

دیکھو تو کیسے صاحبِ رعنائی بن گئے!

ماں باپ کہہ رہے ہیں کہ لختِ جگر ہے یہ

اور وہ ہیں کہ غیروں کے شیدائی بن گئے!

اکبرؔ برا نہ مان زمانے کے رنگ پر

اب تو سبھی فیشن کے سودائی بن گئے!

College Mein Padh Rahe Hain Jawanan-e-Qoum Khush

Company Ki Naukri Ke Tamannayi Ban Gaye!

Pantloon Pehan Ke Coat Ki Jebon Mein Haath Daal

Dekho To Kaise Sahab-e-Raanayi Ban Gaye!

Maa Baap Keh Rahe Hain Ke Lakht-e-Jigar Hai Yeh

Aur Woh Hain Ke Ghairon Ke Sheedaayi Ban Gaye!

Akbar Bura Na Maan Zamaane Ke Rang Par

Ab To Sabhi Fashion Ke Soudaayi Ban Gaye!

نظم Urdu
Comment
اکبر الہٰ آبادی
تعارفِ شاعر

اکبر الہٰ آبادی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1846ء – 1921ء 📍 الہٰ آباد، برطانوی ہندوستان

سید اکبر حسین رضوی المعروف 'اکبر الہٰ آبادی' (16 نومبر 1846ء – 9 ستمبر 1921ء، الہٰ آباد) اردو شاعری کی تاریخ کے عظیم ترین طنز نگار اور 'لسان العصر' تھے۔ آپ سیشن جج کے اعلیٰ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے