شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کا روزہ: طبی رہنما اصول اور شرعی رخصت
- ٹائپ ون (Type-1) ذیابیطس کے مریض اور وہ افراد جن کی شوگر شدید بے قابو رہتی ہو، ان کے لیے روزہ رکھنا جان کے لیے خطرناک ہے، شریعت انہیں رخصت دیتی ہے۔
- دورانِ روزہ اگر شوگر کی سطح 70 mg/dL سے کم ہو جائے یا 300 mg/dL سے تجاوز کر جائے تو طبی و شرعی طور پر فوری روزہ توڑنا واجب ہے۔
- ہائی بلڈ پریشر کے مریض جن کی دوائیں دن میں دو بار ہیں، وہ سحر اور افطار میں ڈاکٹر کے مشورے سے اوقات ایڈجسٹ کر کے باآسانی روزہ رکھ سکتے ہیں۔
- دل کے امراض، دل کے دورے (Heart Attack) کے حالیہ مریض یا بائی پاس سرجری کے فوری بعد بغیر ڈاکٹر کی کلیئرنس روزہ رکھنا سخت منع ہے۔
- افطار میں تلی ہوئی اشیاء (سموسے، پکوڑے)، زیادہ نمک اور تیز میٹھے شربتوں سے مکمل پرہیز شوگر اور دل کے مریضوں کی بنیادی ضرورت ہے۔
طبی سائنس اور شرعی احکام کا حسین امتزاج: ماہِ رمضان المبارک میں دائمی امراض میں مبتلا مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے دل میں یہ شدید تڑپ ہوتی ہے کہ وہ روزے کی سعادت سے محروم نہ رہیں۔ تاہم قرآن کریم نے واضح اصول بیان فرمایا ہے کہ بیماری کی حالت میں شریعت نے روزے کی رخصت عنایت فرمائی ہے۔ جان کی حفاظت اسلام کا اولین مقصد (مقاصد الشریعہ) ہے۔ اس تفصیلی گائیڈ میں ہم ذیابیطس (شوگر)، ہائی بلڈ پریشر اور امراضِ قلب کے مریضوں کے لیے شرعی اور طبی دونوں پہلوؤں کا احاطہ کر رہے ہیں۔
1. شوگر (Diabetes) کے مریض اور روزہ
ذیابیطس کے مریضوں کو بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (IDF) اور اسلامی فقہ کونسل نے تین درجات میں تقسیم کیا ہے:
- شدید خطرے والے مریض (Very High Risk): ٹائپ ون شوگر کے وہ مریض جو دن میں 3 سے 4 مرتبہ انسولین لیتے ہیں، یا حاملہ خواتین جنہیں شوگر ہو، یا وہ جن کا پچھلے 3 ماہ میں شدید ہائپوگلائسیمیا (شوگر لو ہونا) یا کیٹوایسیڈوسس کا واقعہ ہوا ہو۔ ایسے مریضوں کے لیے روزہ رکھنا حرام یا سخت ناجائز ہے کیونکہ اس سے جان جا سکتی ہے۔
- درمیانے درجے کے خطرے والے مریض (Moderate Risk): ٹائپ ٹو شوگر کے مریض جو گولیوں یا دن میں ایک بار طویل المیعاد انسولین پر متوازن ہوں، وہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے خوراک اور اوقات کو سحر و افطار کے مطابق تبدیل کر کے روزہ رکھ سکتے ہیں۔
2. ہائی بلڈ پریشر اور روزہ
طبی ماہرین کے مطابق مستحکم بلڈ پریشر کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں، بلکہ کم کھانے اور نظم و ضبط سے اکثر مریضوں کا بلڈ پریشر معمول پر آ جاتا ہے۔ تاہم مندرجہ ذیل احتیاطیں ضروری ہیں:
- پیشاب آور گولیاں (Diuretics) سحری کی بجائے افطار کے وقت لی جائیں تاکہ دن بھر جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) نہ ہو۔
- افطار میں نمک، اچار، پاپڑ اور پروسیسڈ فوڈز سے سخت پرہیز کریں، کیونکہ نمک فوری طور پر بلڈ پریشر کو شوٹ کر دیتا ہے۔
- سحر اور افطار کے درمیانی وقفے میں 8 سے 10 گلاس سادہ پانی وقفے وقفے سے پئیں۔
3. دل کے امراض (Cardiovascular Diseases)
دل کے وہ مریض جنہیں حال ہی میں اینجائنا کا شدید درد ہوا ہو، سٹینٹ ڈلا ہو یا جن کے دل کے پٹھے کمزور (Heart Failure) ہوں، ان کے لیے روزے کے طویل اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی شریعت نے ایسے تمام مریضوں کے لیے فدیہ یا بعد میں قضا کی مکمل گنجائش رکھی ہے۔
مریضوں کے لیے سحر و افطار کا غذائی شیڈول
| وقت | مفید غذائیں | ممنوع اشیاء |
|---|---|---|
| سحری | جو کا دلیہ، بغیر گھی کی ملٹی گرین روٹی، دہی، ابلے انڈے، وافر پانی | پراٹھے، تیز مصالحے دار سالن، چائے، کافی اور زیادہ میٹھی اشیاء |
| افطار | ایک کھجور، لیموں پانی (بغیر چینی)، بغیر چینی کی فروٹ چاٹ، گرلڈ گوشت | پکوڑے، سموسے، جلیبیاں، مصنوعی لال شربت اور کولڈ ڈرنکس |
نتیجہ
اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم ہے اور وہ اپنے بندوں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اپنے مستند معالج سے مکمل چیک اپ کروائیں اور اگر وہ طبی بنیادوں پر منع کرے تو بلا جھجھک شریعت کی دی ہوئی رخصت پر عمل کریں۔
