آسمانی کتب پر ایمان کی شرعی حیثیت اور کتبِ سابقہ کے مقابلے میں قرآنِ مجید کا مقام

✍️ مفتی شاہد محمود • 📅 30 ستمبر 2026 • ⏱️ مطالعہ: 8 منٹ
💡 خلاصہ و اہم ایمانی نکات (Key Takeaways):
  • تمام آسمانی صحائف اور کتب پر اجمالی اور قرآنِ مجید پر تفصیلی ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
  • تورات، زبور اور انجیل کتبِ سابقہ ہیں جن کی اصل آسمانی شکل برحق تھی لیکن بعد میں تحریف کا شکار ہوئیں۔
  • قرآنِ مجید پچھلی تمام کتب کا محافظ (مہیمن) اور سابقہ شریعتوں کا ناسخ بن کر قیامت تک کے لیے نازل ہوا۔
📖 قرآنی ہدایت (Quranic Decree)
«وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ»
اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان کی نگہبان و محافظ ہے۔ (سورۃ المائدۃ: 48)
📜 فرمانِ رسول ﷺ (Prophetic Guidance)
«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»
تم میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دی۔ (صحیح البخاری: 5027)

آسمانی کتب پر ایمان (الإيمان بالكتب السماوية) اسلامی ایمانیات کا تیسرا لازمی رکن ہے۔ اللہ رب العزت نے انسانیت کی رشدو ہدایت، گمراہی سے نجات اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے اپنے انبیاء پر مختلف ادوار میں کتابیں اور صحائف نازل فرمائے۔ ایک مسلمان کا یہ قطعی عقیدہ ہوتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابیں حق، نور اور سراپا ہدایت تھیں جن کے ذریعے لوگوں کو توحید اور نیکی کی طرف بلایا گیا۔

مشہور آسمانی کتابیں اور ان کے انبیاء

  • تورات: حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی جس میں بنی اسرائیل کے لیے احکام و شریعت کی تفصیل تھی۔
  • زبور: حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی جس میں اللہ کی حمد و ثنا اور مناجات کا بیان تھا۔
  • انجیل: حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی جس میں روحانیت، اخلاق اور تورات کی چند پابندیوں میں نرمی کا پیغام تھا۔
  • صحائف: حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام پر نازل ہونے والے حکمت سے بھرپور صحیفے۔
  • قرآنِ مجید: خاتم النبیین سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہونے والی آخری اور عالمگیر کتاب۔

قرآنِ مجید کی خصوصیت اور کتبِ سابقہ پر فوقیت

قرآنِ مجید پچھلی تمام کتب سے اس لحاظ سے منفرد ہے کہ:

  1. کتبِ سابقہ کسی خاص قوم اور محدود زمانے کے لیے تھیں، جبکہ قرآنِ حکیم قیامت تک تمام نوعِ انسانی کے لیے ضابطہ حیات ہے۔
  2. سابقہ کتب انسانی دست برد اور تحریف کا شکار ہو گئیں، جبکہ قرآن کے ایک ایک حرف اور زیر زبر کی حفاظت کا ذمہ خود ربِ کائنات نے اٹھایا ہے۔
  3. قرآنِ مجید ‘مہیمن’ ہے یعنی وہ پچھلی کتب میں موجود سچائیوں کو واضح کرتا ہے اور الحاقی باتوں سے حق کو جدا کر دیتا ہے۔