دنیا 12 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 182

وہ جاسوس جس نے ’ویاگرا‘ کے لیے اپنے ملک سے غداری کی

وہ جاسوس جس نے ’ویاگرا‘ کے لیے اپنے ملک سے غداری کی

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:03 صبح

1981 میں تہران کی ایک گرم خزاں کی شام دو جاسوس ایک چھوٹے سے سفید ٹائلوں والے حمام میں بیٹھے ووڈکا پی رہے تھے۔ ان میں سے ایک، ایان میک کریڈی، برطانوی تھا جبکہ دوسرا ولادی میر کوزیچکن، روسی خفیہ ادارے کے جی بی کا میجر تھا۔ اس کا قد چھ فٹ چار انچ سے بھی زیادہ تھا اور جسم اتنا چوڑا تھا کہ جس بان سے بنی کپڑوں والی ٹوکری پر وہ بیٹھا تھا، وہ چرچرا رہی تھی۔

نلکوں سے ٹھنڈا پانی باتھ ٹب اور واش بیسن میں گر رہا تھا جبکہ ایک ریڈیو کی آواز ایرانی جاسوسی آلات کو ان کی گفتگو سننے سے روکنے کے لیے چلائی گئی تھی۔ اگر دونوں کی بات چیت سن لی جاتی تو انہیں گرفتاری، تشدد اور ممکنہ طور پر سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

روسی افسر پہلے ہی کے جی بی سے غداری کی پیشکش کر چکا تھا اور اس کے پاس ایک ایسا راز تھا، جو انتہائی اہم ثابت ہو سکتا تھا۔ بظاہر سوویت حمایت یافتہ کمیونسٹ ایران میں اقتدار پر قبضہ کرنے اور ریڈ (سویت) فوج کو ملک میں بلانے کی تیاری کر رہے تھے۔ اس صورت میں ماسکو کو ایران کے تیل کے ذخائر اور خلیج فارس کی بندرگاہوں تک رسائی مل سکتی تھی۔

کوزیچکن نے بدلے میں اپنی خواہش بھی بتا دی۔ اسے یقین تھا کہ مغربی دوا اس بیماری کا علاج کر سکتی ہے، جو اس کی ازدواجی زندگی تباہ کر رہی تھی، یعنی جنسی کمزوری۔

بین میک انٹائر کی نئی شاندار کتاب Redwood: The Untold Story of the Cold War’s Most Extraordinary Spy  کا آغاز اسی منظر سے ہوتا ہے۔

ولادی میر کوزیچکن کی زندگی پر مبنی کتاب (وائکنگ)