برطانیہ کا مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کا اعلان
برطانیہ کا مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کا اعلان
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہودی آبادکار فلسطینیوں کے خلاف ’نسلی صفایا‘ کر رہے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کو پارلیمان میں بتایا کہ برطانیہ ان بستیوں سے آنے والی تمام اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جبکہ بستیوں کی توسیع کے لیے مالی معاونت، تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، جائیداد اور اشتہارات سمیت بعض خدمات پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ فرانس اور کینیڈا بھی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی تجارت پر پابندی عائد کریں گے۔
ملی بینڈ نے کہا کہ ’برطانوی حکومت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ مغربی کنارے کے علاقوں میں آبادکار دہشت گردوں کی جانب سے فلسطینیوں کا نسلی صفایا کیا جا رہا ہے۔‘
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اسرائیلی حکومت نے اس معاملے پر آنکھیں بند کیے رکھی ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر اس کے بعض ارکان نے ایسے بیانات دیے اور اقدامات کیے ہیں جو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی حمایت کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ ایسے مزید ’انتہا پسند آبادکاروں‘ پر پابندیاں عائد کر رہا ہے جنہوں نے فلسطینی برادریوں کے خلاف تشدد کی حمایت یا اسے ہوا دی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی بستیوں سے متعلق نئی پابندیاں آئندہ چھ سے نو ماہ کے دوران نافذ العمل ہوں گی۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ آٹھ ستمبر 20026 کو پارلیمان میں خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)
