سزائے موت سے بچنے والی امریکی خاتون ہوش میں آگئیں، بات کر رہی ہیں: وکلا
سزائے موت سے بچنے والی امریکی خاتون ہوش میں آگئیں، بات کر رہی ہیں: وکلا
امریکی ریاست ٹینیسی کی جیل میں گذشتہ ہفتے سزائے موت کے عمل سے بچ جانے والی خاتون قیدی کرسٹا پائیک کے وکلا نے منگل کو بتایا کہ وہ اب ہوش میں ہیں اور بات چیت بھی کر رہی ہیں، تاہم ان کی صحت کے بارے میں حتمی پیش گوئی ابھی ممکن نہیں۔
50 سالہ کرسٹا پائیک کو، جنہیں نوعمری میں کیے گئے ایک قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، ایک ہفتہ قبل ٹینیسی کی جیل میں دوا پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دی گئی تھیں، جنہیں جان لیوا سمجھا جاتا ہے۔
تاہم وہ ان انجیکشنز کے لگنے کے باوجود زندہ بچ گئیں اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تشویش ناک حالت میں بے ہوش تھیں اور وینٹی لیٹر پر رکھی گئی تھیں۔
کرسٹا پائیک کے وکلا نے منگل کو کہا کہ ’تمام تر امکانات کے برعکس‘ وہ اب ’ہوش میں ہیں، بات کر رہی ہیں اور بدستور انتہائی نگہداشت میں ہیں۔‘
وکلا کے مطابق سزائے موت پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران کرسٹا پائیک نے یکم اکتوبر 2026 کو عملے کو دو آئی وی لائنیں لگانے میں مدد کرنے کی بھی کوشش کی (اے ایف پی)
