پاکستان 9 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 697

سیٹلائٹ سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی 40 سالہ نگرانی ممکن: سپارکو

سیٹلائٹ سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی 40 سالہ نگرانی ممکن: سپارکو

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:46 صبح

کراچی میں پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو)  کے سمپوزیم میں ماہرین نے کہا ہے کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی نہ صرف نگرانی کی جا سکتی ہے بلکہ گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا تجزیہ بھی ممکن ہے۔

’سپیس فار کلائمیٹ‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے سمپوزیم میں موسمیاتی تبدیلی، ساحلی علاقوں، مینگروز، سمندری پانی کی مداخلت، خشک سالی، ہیٹ ویو، آبی گزرگاہوں، زمینی احاطے اور فصلوں کی نگرانی میں خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر گفتگو کی گئی۔

سپارکو کے ڈائریکٹر جنرل سپیس فار کلائمیٹ انیشی ایٹو ڈاکٹر محمد فاروق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سپیس فار کلائمیٹ‘ اقدام کا بنیادی مقصد سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم اشاریوں کی باقاعدگی سے نگرانی کرنا ہے۔

ان کے مطابق اس سلسلے میں جنگلات، گلیشیئرز اور برف، فضائی معیار، گرین ہاؤس گیسز، آبی گزرگاہوں اور زمین کے استعمال میں تبدیلیوں سمیت مختلف شعبوں کا سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔

ڈاکٹر محمد فاروق نے کہا کہ ’صرف سیٹلائٹ ڈیٹا اکٹھا کرنا مقصد نہیں، بلکہ اس کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کرنا ہے کہ گذشتہ 10، 20 یا 40 برسوں کے دوران ان شعبوں میں کیا تبدیلیاں اور رجحانات سامنے آئے ہیں۔‘

کراچی میں 8 ستمبر 2026 کو پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کا سمپوزیم منعقد ہوا (انڈیپینڈنٹ اردو)