روس کی پاکستان، افغانستان سے بیک وقت سکیورٹی معاملات پر مشاورت
روس کی پاکستان، افغانستان سے بیک وقت سکیورٹی معاملات پر مشاورت
ایک ایسے وقت جب روس کے وزیر داخلہ ولادی میر کولاکولتسیف اسلام آباد میں تھے ان کے سپائی چیف سرگئی ناریشکن کابل میں افغان طالبان سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔
اسلام آباد میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور روس کے وزیر داخلہ کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے دوران طے پایا کہ دونوں ممالک جرائم کی روک تھام سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔
ملاقات میں منظم جرائم کی روک تھام کے لیے اشتراک اور معلومات کے تبادلے کے ایم او یو پر دستخط کرنے، ایکسٹراڈیشن اور مجرمان کے تبادلے پر معاہدوں کو حتمی شکل دینے اور ری ایڈمیشن معاہدے پر جلد عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے اینٹی نارکوٹکس فورس اور روس کے متعلقہ اداروں کے مابین تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ۔ ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے وزارت داخلہ کے ورکنگ گروپ ایک دوسرے کے ممالک کا جلد دورہ کریں گے۔
ادھر روس کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے کابل کے دورے کے دوران طالبان حکومت کے انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق واثق اور کئی دیگر اعلیٰ حکام سے بات چیت کی ہے۔
russianinteriorminister.jpeg
