دنیا 27 اگست 2026 ⏱ 3 min read 👁 798

پمز کی راکھ میں لپٹی عوامی بےبسی

پمز کی راکھ میں لپٹی عوامی بےبسی

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 9:32 صبح

اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے تپتے اور دھواں دیتے وارڈ سے اٹھنے والی بو محض جلے ہوئے گوشت، پلاسٹک اور آکسیجن پائپوں کی نہیں تھی۔ یہ دراصل ہمارے اس نظام کی اخلاقی لاش کا تعفن تھا جس کے بارے میں کچھ عرصہ قبل ایک اہم حکومتی وزیر نے کہا تھا کہ یہ ’ڈھے‘ چکا ہے۔

سبزی فروش بہادر خان نے پانچ برس انتظار میں گزار دیے۔ جی ہاں، پانچ طویل برس، جن کا ہر دن اس شخص اور اس کی بیوی کے لیے ایک صدی رہا ہو گا۔ بہادر خان شام ڈھلے شاید یہ خواب دیکھتا ہو گا کہ ایک دن اپنے بچے کو گود میں اٹھائے گا، اس کے ننھے جسم کی حرارت سے اس غریب گھر کا اندھیرا کچھ کم ہو گا۔

وہ دن آیا بھی تو خوشی کی شکل میں نہیں، قیامت کی صورت میں۔

اللہ نے اسے ایک نہیں، دو بچے دیے۔ جڑواں۔ مگر دہلیز تک پہنچی خوشی سفاک غفلت کی راکھ میں بدل گئی۔

اور پھر جویریہ کو دیکھیے۔

سی سیکشن کے تازہ زخموں سے رس رہا خون، مگر ماں کی آنکھ میں اپنی تکلیف نہیں، اپنے بچے کو سینے سے لگانے کی بے قراری تھی۔ ابھی تین دن پہلے جس ننھی نے دنیا میں پہلی سانسیں لی تھیں، وہی سانسیں اچانک دھوئیں میں گم ہو گئیں۔

چیخیں اٹھیں۔ بھگدڑ مچی۔ دھواں پھیلا۔ اور وہ درجن سے زائد زندگیاں خاموش ہو گئیں۔

پمز کی بے حس راہداریوں میں تڑپتی سسکتی اور  بلکتی اس ماں کی چیخ آج بھی اس ریاست کے کان میں ہتھوڑے کی طرح پڑنی چاہیے۔ ’ڈاکٹر نے کہا ہے ڈبے میں بچے کو لے جاؤ۔۔۔ ہمیں تو کسی نے بچے کے ٹکڑے بھی نہیں دکھائے! ہم کس بات پہ یقین کریں؟ این آئی سی یو کو باہر سے تالا لگا کر یہ لوگ کہاں دفع ہو گئے تھے؟‘

یہ سوال کسی ایک ڈاکٹر، نرس یا اہلکار سے نہیں تھا۔ یہ سوال اس پورے نظام سے تھا جس میں ہسپتال کے دروازے بچوں کی حفاظت کے وقت اچانک بند ہو جاتے ہیں، جہاں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کا مؤثر انتظام نہیں ہوتا اور جہاں غریب کی زندگی کا بچاؤ ترجیح نہیں بنتا۔

پھر انتظامیہ کی طرف سے وہ جملہ آیا جس نے اس سانحے کو محض حادثہ نہیں رہنے دیا۔ ’ہم بڑے لوگوں کو بچا رہے تھے‘ گویا بڑے لوگ زندگی تھے اور نومولود بچے کچھ نہیں۔

نو ماہ تک اپنی کوکھ میں رکھنے اور پھر جنم دینے والی ماں نے جو جواب دیا، وہ کسی عدالتی فیصلے سے کم نہیں تھا۔ ’بڑے لوگ اپنے پاؤں سے چل نہیں سکتے تھے؟ تم انہیں بچا رہے تھے اور میرے تین دن کے بچے کو جلنے کے لیے چھوڑ آئے؟‘ اس ایک سوال نے پورے نظام کا پوسٹ مارٹم کر دیا۔

واقعے کے بعد حسب معمول ریاست جاگ گئی۔

26 اگست، 2026 کو پمز ہسپتال میں پولیس اہلکار اور ایمبولنس نظر آ رہی ہے (روئٹرز)