دنیا 24 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 511

پہاڑوں کے پار: کھوار زبان اور موسیقی میں ایک گہرا غوطہ

پہاڑوں کے پار: کھوار زبان اور موسیقی میں ایک گہرا غوطہ

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 7:35 صبح

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کچھ خطے صرف جغرافیہ نہیں ہوتے، وہ اپنے اندر ایک مکمل تہذیب، ایک مکمل احساس، ایک مکمل طرزِ حیات سموئے ہوتے ہیں۔ چترال بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے۔

برف پوش پہاڑوں، نیلگوں دریاؤں، سرسبز وادیوں اور خاموش مگر باوقار فضا میں لپٹا ہوا ایک ایسا دیس جہاں زندگی محض گزاری نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔ یہاں کے لوگ موسموں سے باتیں کرتے ہیں، پہاڑوں سے رشتہ رکھتے ہیں اور موسیقی کو محض تفریح نہیں بلکہ روح کی غذا سمجھتے ہیں۔

چترال کی شامیں جب آہستہ آہستہ پہاڑوں کے پیچھے اترتی ہیں اور دریائے چترال کا پانی دھیمی روشنی میں چمکنے لگتا ہے تو دور کہیں ستار کے تار چھیڑے جاتے ہیں۔ یہ محض ایک ساز کی آواز نہیں ہوتی بلکہ یہ نسلوں کے حافظے کی صدا ہوتی ہے، ایک تہذیب کا تسلسل اور ایک خطے کا اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ ستار کی یہی دھنیں چترال کے گھروں، حجروں، شادیوں، خاندانی محفلوں اور اجتماعی تقریبات میں زندگی کی حرارت پیدا کرتی ہیں۔

چترالی ستار کی دنیا میں مرزا محمد سِیر ایک درخشاں ستارے کی مانند ہیں۔ ان کی شخصیت میں شاعری اور ستار نوازی گویا ایک دوسرے میں تحلیل ہو گئی تھی۔ وہ لفظوں سے بھی دھن پیدا کرتے تھے اور انگلیوں سے بھی۔ ان کے ہاں محبت محض ایک ذاتی جذبہ نہیں بلکہ کائناتی تجربہ بن جاتی ہے۔ ان کے اشعار میں محبوب کا ذکر آتا ہے تو ساتھ ہی پہاڑوں کی خاموشی، چشموں کی روانی اور موسموں کی لطافت بھی شریک ہو جاتی ہے۔ شنید ہے کہ جب وہ ستار چھیڑتے تھے تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پہاڑوں کے سینے میں چھپی کوئی قدیم کہانی زبان پا گئی ہو۔

قلعۂ چترال 1895 میں (پبلک ڈومین)