پاکستان میں سائبر جرائم اور ان کا تدارک
پاکستان میں سائبر جرائم اور ان کا تدارک
گلوبل فراڈ انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان کو آن لائن فراڈ سے تحفظ کے معاملے میں 112 ممالک میں 112ویں نمبر پر رکھا گیا یعنی اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی سب سے آخر میں ہے۔
یونیسف کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان مین تقریباً ہر 16 میں سے ایک، انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے (عمر 12 سے 17 سال)، نے ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے مسائل کا سامنا کیا۔
موجودہ دور میں کوویڈ وبا کے بعد تقریباً انسانی تعلقات سائبر سپیس میں ہی چلتے رہے اور انٹرنیٹ نے انسانی تعلقات کو ختم ہونے سے بچا لیا، جس کے اثرات انسانی تہذیب اور تمدن پر پڑے۔ جیسے جیسے انٹرنیٹ پر انسان استعمال بڑھاتا گیا تو اچھی اور بری چیزیں دونوں بڑھیں۔
جو بھی بری چیزیں انٹرنیٹ پر چل رہی ہوتی ہے ان کو عام زبان مین ’سائبر کرائم‘ کہا جاتا ہے لیکن قانونی طور پر سائبر کرائم کے معنی ایسے غیر قانونی اعمال ہیں جو کمپیوٹر، موبائل فون، انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں سائبر کرائم کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ لوگوں کو آن لائن فراڈ، جعلی پیغامات، اکاؤنٹ ہیکنگ اور آن لائن ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔2025 میں پاکستان میں سائبر کرائم کی ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ شکایات درج ہوئیں۔ عام طور پر ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں۔
تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت نے سائبر مجرموں کو حقیقت کے انتہائی قریب آواز کی نقل بنانے والے ٹولز فراہم کر دیے ہیں، جن کے ذریعے وہ لوگوں کے پیاروں کی آوازیں نقل کر کے ان سے رقم ہتھیا سکتے ہیں (فائل/ اینواتو)
